خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 26
خطبات مسرور جلد 15 26 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 جنوری 2017 ٹھو کر سے بچیں گے۔ایک منصف مزاج کہہ سکتا ہے کہ ایسے لوگوں میں جہاں غیر مرد و عورت اکٹھے بلا تامل اور بے محابا مل سکیں۔سیریں کریں کیونکر جذباتِ نفس سے اضطرارا ٹھو کر نہ کھائیں گے۔بسا اوقات سننے اور دیکھنے میں آیا ہے کہ ایسی قومیں غیر مرد اور عورت کے ایک مکان میں تنہا رہنے کو حالا نکہ دروازہ بھی بند ہو کوئی عیب نہیں سمجھتیں۔یہ گویا تہذیب ہے۔انہی بد نتائج کو روکنے کے لئے شارع اسلام نے وہ باتیں کرنے کی اجازت ہی نہ دی جو کسی کی ٹھو کر کا باعث ہوں۔ایسے موقع پر یہ کہہ دیا کہ جہاں اس طرح غیر محرم مردو عورت ہر دو جمع ہوں تیسر ا اُن میں شیطان ہوتا ہے۔ان ناپاک نتائج پر غور کرو جو یورپ اس خلیج الرسن تعلیم سے بھگت رہا ہے۔بعض جگہ بالکل قابل شرم طوائفانہ زندگی بسر کی جارہی ہے۔یہ انہی تعلیمات کا نتیجہ ہے۔اگر کسی چیز کو خیانت سے بچانا چاہتے ہو تو حفاظت کرو۔لیکن اگر حفاظت نہ کرو اور یہ سمجھ رکھو کہ بھلے مانس لوگ ہیں تو یاد رکھو کہ ضرور وہ چیز تباہ ہو گی۔اسلامی تعلیم کیسی پاکیزہ تعلیم ہے کہ جس نے مرد و عورت کو الگ رکھ کر ٹھوکر سے بچایا اور انسان کی زندگی حرام اور تلخ نہیں کی جس کے باعث یورپ نے آئے دن کی خانہ جنگیاں اور خود کشیاں دیکھیں۔بعض شریف عورتوں کا طوائفانہ زندگی بسر کرنا ایک عملی نتیجہ اس اجازت کا ہے جو غیر عورت کو دیکھنے کے لئے دی گئی۔" ( ملفوظات جلد اول صفحہ 34-35) پھر پر وہ کے طریق کے بارے میں آپ نے بتایا کہ کس طرح پر دہ ہو نا چاہئے ؟ فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ " ایماندار عورتوں کو کہہ دے کہ وہ بھی اپنی آنکھوں کو نا محرم مردوں کے دیکھنے سے بچائیں اور اپنے کانوں کو بھی نامحرموں سے بچائیں یعنی ان کی پُر شہوات آواز میں نہ سنیں اور اپنے ستر کی جگہ کو پر دے میں رکھیں اور اپنی زینت کے اعضاء کو کسی غیر محرم پر نہ کھولیں اور اپنی اوڑھنی کو اس طرح سر پر لیں کہ گریبان سے ہو کر سر پر آجائے۔یعنی گریبان اور دونوں کان اور سر اور کنپٹیاں سب چادر کے پردہ میں رہیں اور اپنے پیروں کو زمین پر ناچنے والوں کی طرح نہ ماریں۔یہ وہ تدبیر ہے کہ جس کی پابندی ٹھو کر سے بچا سکتی ہے۔" (اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 341-342) یہاں یہ بات بھی واضح کر دوں کہ بعض عورتیں یہ بھی سوال اٹھا دیتی ہیں کہ ہم نے میک آپ کیا ہوتا ہے اگر چہرے کو نقاب سے ڈھانک لیں تو ہمارا میک آپ خراب ہو جاتا ہے۔تو کس طرح پر دہ کریں۔اول تو میک آپ نہ کریں تو پھر یہ پر دہ، کم از کم پر دہ ہے جس کا معیار حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بتایا کہ چہرہ، ہونٹ ننگے ہو سکتے ہیں۔باقی چہرہ ڈھانکا ہو۔(ماخوذ از ریویو آف ریلیجنز جلد 4 نمبر 1 صفحہ 17ماہ جنوری 1905ء) اور اگر میک آپ کرنا ہے تو بہر حال ڈھانکنا ہو گا۔ان کو یہ سوچنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی تعلیم پر چلتے ہوئے اپنی زینت کو چھپانا ہے یا دنیا کو اپنی خوبصورتی اور اپنا میک آپ دکھانا ہے۔