خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 25 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 25

خطبات مسرور جلد 15 25 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 جنوری 2017 تمہاری کامیابی کی نشانی ہے۔تمہاری دنیا اور آخرت سنور جائے گی۔چنانچہ فرمایا کہ وَقُل لِّلْمُؤْمِنَتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي أَخَوَاتِهِنَّ أَوْ نِسَائِهِنَّ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ أَوِ التَّبِعِينَ غَيْرِ أُولى الْإِرْبَةِ مِنَ الرَّجَالِ أَوِ الطِفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا عَلَى عَوْرَتِ النِّسَاءِ - وَلَا يَضْرِ بْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِنْ زِينَتِهِنَّ وَتُوْبُوا إِلَى اللهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (النور:32) اور مومن عورتوں سے کہہ دے کہ وہ اپنی آنکھیں نیچی رکھا کریں۔اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت ظاہر نہ کیا کریں سوائے اس کے کہ جو اس میں سے ازخود ظاہر ہو۔اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈال لیا کریں اور اپنی زینتیں ظاہر نہ کیا کریں مگر اپنے خاوندوں کے لئے یا اپنے باپوں یا اپنے خاوندوں کے باپوں یا اپنے بیٹوں کے لئے یا اپنے خاوندوں کے بیٹوں کے لئے یا اپنے بھائیوں یا اپنے بھائیوں کے بیٹوں یا اپنی بہنوں کے بیٹوں یا اپنی عورتوں یا اپنے زیر نگیں مردوں کے لئے یا مردوں میں ایسے خادموں کے لئے جو کوئی جنسی حاجت نہیں رکھتے یا ایسے بچوں کے لئے جو عورتوں کی پردہ دار جگہوں سے بے خبر ہیں۔اور وہ اپنے پاؤں اس طرح نہ ماریں کہ لوگوں پر وہ ظاہر کر دیا جائے جو عورتیں عموماً اپنی زینت میں سے چھپاتی ہیں۔اور اے مومنو! تم سب کے سب اللہ کی طرف توبہ کرتے ہوئے جھکو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔مردوں کی نظریں بھی اور عورتوں کی نظریں بھی نیچی رکھنے اور پردہ سے ہی عورت کی عزت اور عصمت کی حفاظت ہو گی۔ترقی یافتہ ممالک میں تو عزت اور عصمت کی حفاظت کے معیار بدل گئے ہیں۔نامحرموں کے آپس کے تعلقات اگر لڑکے اور لڑکی کی مرضی سے ہیں تو پھر زنا نہیں کہلاتا۔یہ اگر مرضی کے خلاف ہیں تو پھر زنا کہلایا جاتا ہے۔جب ایسی گراوٹیں آجائیں تو ایک مومن کو تو اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آنے کے لئے بہت زیادہ دعاؤں اور کوشش کی ضرورت ہے۔اسلام کی تعلیم پر اعتراض کرنے والے کہتے ہیں کہ عورت کو حجاب اوڑھا کر ، پردہ کا کہہ کر اس کے حقوق سلب کئے گئے ہیں اور اس سے کچے ذہن کی لڑکیاں جو ہیں بعض دفعہ متاثر ہو جاتی ہیں۔اسلام پردہ سے مراد جیل میں ڈالنا نہیں لیتا۔گھر کی چار دیواری میں عورت کو بند کرنا اس سے مراد نہیں ہے۔ہاں حیا کو قائم کرنا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : آجکل پر وہ پر حملے کئے جاتے ہیں لیکن یہ لوگ نہیں جانتے کہ اسلامی پردہ سے مراد زندان نہیں۔" یعنی قید خانہ نہیں ہے بلکہ ایک قسم کی روک ہے کہ غیر مرد اور عورت ایک دوسرے کو نہ دیکھ سکے۔جب پر دہ ہو گا