خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 511 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 511

خطبات مسرور جلد 15 511 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 20اکتوبر 2017 " ہر ایک شخص کو خود بخود خدا تعالیٰ سے ملاقات کرنے کی طاقت نہیں ہے اس کے واسطے واسطہ ضرور ہے اور وہ واسطہ قرآن شریف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔اس واسطے جو آپ کو چھوڑتا ہے وہ کبھی بامراد نہ ہو گا۔انسان تو دراصل بندہ یعنی غلام ہے۔غلام کا کام یہ ہوتا ہے کہ مالک جو حکم کرے اسے قبول کرے۔اسی طرح اگر تم چاہتے ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض حاصل کرو تو ضرور ہے کہ اس کے غلام ہو جاؤ۔قرآن کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔قُلْ يُعِبَادِيَ الَّذِيْنَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ (الزمر: 54) " یعنی کہہ دے اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جان پر ظلم کیا۔فرمایا کہ " اس جگہ بندوں سے مراد غلام ہی ہیں نہ کہ مخلوق۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بندہ ہونے کے واسطے ضروری ہے کہ آپ پر درود پڑھو اور آپ کے کسی حکم کی نافرمانی نہ کرو۔سب حکموں پر کاربند رہو۔جیسے کہ حکم ہے۔قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله (ال عمران : 32) یعنی اگر تم خدا تعالیٰ سے پیار کرنا چاہتے ہو تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پورے فرمانبر دار بن جاؤ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ میں فنا ہو جاؤ تب خدا تعالیٰ تم سے محبت کرے گا۔" ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 321-322) پس انتہائی گنہگار بھی استغفار کرنے والا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنے والا اگر حقیقت میں اپنے آپ میں تبدیلی پیدا کرنا چاہے تو پھر خدا تعالیٰ کا پیارا بن سکتا ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ: اللہ تعالیٰ کے خوش کرنے کا ایک یہی طریق ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی فرمانبرداری کی جاوے۔دیکھا جاتا ہے کہ لوگ طرح طرح کی رسومات میں گرفتار ہیں۔کوئی مر جاتا ہے تو قسم قسم کی بدعات اور رسومات کی جاتی ہیں۔حالانکہ چاہئے کہ مُردہ کے حق میں دعا کریں۔رسومات کی بجا آوری میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صرف مخالفت ہی نہیں ہے بلکہ ان کی ہتک بھی کی جاتی ہے۔" جو نئی نئی رسمیں پیدا کرلی ہیں یہ صرف آپ کے حکم کی خلاف ورزی ہی نہیں ہے بلکہ یہ ایک لحاظ سے آپ کی ہتک ہے۔اب جنہوں نے ہتک رسول کے قانون پاس کئے ہوئے ہیں وہ سب سے بڑھ کے ان بدعات میں ملوث ہیں۔یہ ہتک کس طرح کی جاتی ہے ؟ آپ فرماتے ہیں کہ۔۔۔گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کو کافی نہیں سمجھا جاتا اگر کافی خیال کرتے تو اپنی طرف سے رسومات کے گھڑنے کی کیوں ضرورت پڑتی۔" (ملفوظات جلد 5 صفحہ 440) پس ان لوگوں کو جو ہمارے خلاف کفر کے فتوے دیتے ہیں اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے پھر ایک جگہ آپ فرماتے ہیں کہ : " اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو۔اس اتباع کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا۔" آپ فرماتے ہیں " پس اب اس آیت سے صاف ثابت ہے کہ جب