خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 510
خطبات مسرور جلد 15 510 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 اکتوبر 2017 سر رکھ دے۔جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرا مرنا، میرا جینا، میری نماز، میری قربانیاں اللہ ہی کے لئے ہیں اور سب سے پہلے میں اپنی گردن رکھتا ہوں۔" ( ملفوظات جلد 2 صفحہ 186) پس حقیقی پیروی کرنے والے اپنی عبادتوں کے بھی معیار بلند کرتے ہیں۔پس ہم میں سے ہر ایک کو اپنا جائزہ لینا چاہئے کہ اس لحاظ سے بھی ہمیں ضرورت ہے ورنہ ہمارا بھی پیروی کا دعویٰ کھو کھلا دعویٰ ہے۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کامل موحد ہونے کے بارے میں آپ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے کہ " اے رسول تُو ان لوگوں کو کہہ دے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو۔" یہ آیت کا ترجمہ ہے۔فرمایا کہ " اللہ تعالیٰ تم کو اپنا محبوب بنالے گا۔" فرماتے ہیں کہ "آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اتباع انسان کو محبوب الہی کے مقام تک پہنچا دیتی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کامل موحد کا نمونہ تھے۔" ( ملفوظات جلد 8 صفحہ 115) یعنی اب آپ اس سے یہ استنباط کر رہے ہیں، یہ دلیل دے رہے ہیں کہ آپ کامل موحد تھے۔اس مقام پر پہنچے ہوئے تھے جس پہ اور کوئی نہیں پہنچ سکتا۔اسی لئے عبادت کے لحاظ سے بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہی نمونہ ٹھہرایا جس طرح دوسرے اخلاق فاضلہ کے بارے میں۔ایک جگہ آپ فرماتے ہیں کہ : وسلم " اللہ تعالیٰ کی محبت کامل طور پر انسان اپنے اندر پیدا نہیں کر سکتا جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ و کے اخلاق اور طرز عمل کو اپنار ہبر اور ہادی نہ بنادے۔چنانچہ خود اللہ تعالیٰ نے اس کی بابت فرمایا ہے : قُل اِن كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحببكُمُ الله (ال عمران : 32) یعنی محبوب الہی بننے کے لئے ضروری ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی جاوے۔سچی اتباع آپ کے اخلاق فاضلہ کا رنگ اپنے اندر پیدا کرنا ہوتا ہے۔" (ملفوظات جلد 3 صفحہ 87) پس ایک تو عبادت کے رنگ ہیں۔ایک دوسرے اخلاق فاضلہ کے رنگ ہیں۔اور سچی اتباع کا مطلب ہی یہی ہے کہ جو اخلاق فاضلہ ہیں جن کا قرآن کریم میں ذکر ہے وہ ان میں پیدا کی جائیں جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ كَانَ خُلُقَهُ الْقُرْآن کہ آپ کے اخلاق فاضلہ اگر دیکھنے ہیں تو قرآن کریم پڑھ لو۔وہی اس کی تفسیر ہے۔پس اس لحاظ سے بھی ہمیں قرآن کریم پڑھنے کی ضرورت ہے۔ہمیں اوروں کو کہنے سے پہلے اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مان کر ہم نے کس حد تک قرآن کریم کو اپنادستور العمل بنایا ہے۔یہ بیعت کا حصہ بھی ہے۔سچائی کو ہم نے کس حد تک قائم کیا ہے۔انصاف کو ہم کس حد تک قائم کرنے والے ہیں۔لوگوں کے حقوق دینے میں ہم کس حد تک کوشش کرنے والے ہیں۔پھر ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: