خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 509
خطبات مسرور جلد 15 509 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 20 اکتوبر 2017 " ان کو کہہ دو کہ اگر تم چاہتے ہو کہ محبوب الہی بن جاؤ اور تمہارے گناہ بخش دیئے جاویں تو اس کی ایک ہی راہ ہے کہ میری اطاعت کرو۔" یہ جو آیت ہے اس کا ترجمہ ہے۔آپ فرماتے ہیں " کیا مطلب کہ میری پیروی ایک ایسی شئے ہے جو رحمت الہی سے ناامید ہونے نہیں دیتی۔گناہوں کی مغفرت کا باعث ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کا محبوب بنادیتی ہے۔" آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی جو ہے وہ کی جائے تو وہ گناہوں کی مغفرت کا باعث بنتی ہے اور نہ صرف یہ بلکہ اللہ تعالیٰ کا محبوب بنادیتی ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ " اور تمہارا یہ دعویٰ کہ ہم اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں اسی صورت میں سچا اور صحیح ثابت ہو گا کہ تم میری پیروی کرو۔" یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرو۔فرماتے ہیں کہ " اس آیت سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ انسان اپنے کسی خود تراشیدہ طرز ریاضت و مشقت اور جپ شپ سے اللہ تعالیٰ کا محبوب اور قرب الہی کا حقدار نہیں بن سکتا۔انوار و برکاتِ الہیہ کسی پر نازل نہیں ہو سکتیں جب تک وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں کھویا نہ جاوے۔اور جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں گم ہو جاوے اور آپ کی اطاعت اور پیروی میں ہر قسم کی موت اپنی جان پر وارد کر لے اس کو وہ نورِ ایمان۔محبت اور عشق دیا جاتا ہے جو غیر اللہ سے رہائی دلا دیتا ہے اور گناہوں سے رستگاری اور نجات کا موجب ہوتا ہے۔اسی دنیا میں وہ ایک پاک زندگی پاتا ہے اور نفسانی جوش و جذبات کی تنگ و تاریک قبروں سے نکال دیا جاتا ہے۔اسی کی طرف یہ حدیث اشارہ کرتی ہے۔" آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "أَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى قَدَمِن۔یعنی میں وہ مُردوں کو اٹھانے والا ہوں جس کے قدموں پر لوگ اٹھائے جاتے ہیں۔" (ملفوظات جلد 2 صفحہ 183) روحانی مردوں کو زندہ کرنے والے ہیں۔آپ کے پیچھے چلنے والے اللہ تعالیٰ کے محبوب بننے والے ہیں۔پھر ایک جگہ آپ اس کی وضاحت کرتے ہوئے مزید فرماتے ہیں کہ : " سعادت عظمی کے حصول کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک ہی راہ رکھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی جاوے۔جیسا کہ اس آیت میں صاف فرما دیا ہے قُل اِن كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله (ال عمران:32) یعنی آؤ میری پیروی کرو تا کہ اللہ بھی تم کو دوست رکھے۔اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ رسمی طور پر عبادت کرو۔اگر حقیقت مذہب یہی ہے تو پھر نماز کیا چیز ہے۔اور روزہ کیا چیز ہے۔خود ہی ایک بات سے رکے اور خود ہی کرے۔" رسمی نمازیں نہیں ہیں۔نمازیں اس طرح ادا کر و جو اُن کا حق ہے۔جو ان کے اوقات ہیں اس کی پابندی کرنی ضروری ہے اور پھر اس طرح عبادت کرو کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہوئے ہو ور نہ تو یہ ساری رسمی عبادتیں ہیں۔فرمایا کہ "اسلام محض اس کا نام نہیں ہے۔اسلام تو یہ ہے کہ بکرے کی طرح