خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 508
خطبات مسرور جلد 15 508 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 20 اکتوبر 2017 دے رہا ہے۔تو یہ حالات ہیں مسلمانوں کے۔اور اسی کا نقشہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کھینچا ہے کہ تم لوگ تو پھٹے ہوئے ہو۔اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو کس طرح حاصل کر سکتے ہو۔اس بات کو بیان فرماتے ہوئے کہ حقیقی نیکی انسان کس طرح کر سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی رضا کو انسان کس طرح حاصل کر سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے انعامات سے کس طرح فیضیاب ہو سکتا ہے۔اور آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ انعامات کس طرح ملے ؟ آپ کے خلاف یہ فتوے دیئے جاتے ہیں کہ نعوذ باللہ آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تع سے انحراف کرنے والے ہیں۔آپ اسلام کی تعلیم سے ہی انحراف کرنے والے ہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ : "میں سچ کہتا ہوں اور اپنے تجربہ سے کہتا ہوں کہ کوئی شخص حقیقی نیکی کرنے والا اور خدا تعالیٰ کی رضا کو پانے والا نہیں ٹھہر سکتا اور ان انعام و برکات اور معارف اور حقائق اور کشوف سے بہرہ ور نہیں ہو سکتا جو اعلیٰ درجہ کے تزکیہ بر ملتے ہیں۔" اعلیٰ درجہ کا جو تزکیہ نفس ہوتا ہے ایک مقام پر انسان پہنچتا ہے تبھی اللہ تعالیٰ سے انعامات و برکات ملتے ہیں۔کشوف ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ سے مکالمہ ہوتا ہے۔فرمایا کہ "جب تک کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں کھویا نہ جائے اور اس کا ثبوت خود خدا تعالیٰ کے کلام سے ملتا ہے : قُل اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله (ال عمران:32) اور خدا تعالیٰ کے اس دعوی کی عملی اور زندہ دلیل " آپ فرماتے ہیں کہ "میں ہوں۔" (الحکم مورخہ 17 ستمبر 1901ء جلد 5 نمبر : 34 صفحہ:1-2) اس زمانے میں مجھ سے اللہ تعالیٰ کلام کرتا ہے اس لئے کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں کھویا گیا۔آپ کی پیروی کی اور اللہ تعالیٰ نے پھر محبت کا سلوک کیا۔پس آپ پر الزام لگانے والوں کے الزام کہ آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کو گرایا ہے۔جبکہ آپ تو فرمارہے ہیں کہ جو مقام مجھے ملاوہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق اور محبت اور آپ کی کامل پیروی کے ذریعہ سے ملا۔جس کو دنیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام گرانے والا سمجھتی ہے وہی حقیقی عاشق صادق ہے جس نے حقیقی پیروی کی اور پھر اللہ تعالیٰ نے بھی ایسا نوازا کہ اپنے حبیب سے محبت کرنے کی وجہ سے اپنا بھی محبوب بنالیا۔اس کامل پیروی کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے جو کام آپ کے سپرد فرمایا اس کے بارے میں آپ فرماتے ہیں کہ : " مجھے بھیجا گیا ہے تاکہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کھوئی ہوئی عظمت کو پھر قائم کروں اور قرآن شریف کی سچائیوں کو دنیا کو دکھاؤں اور یہ سب کام ہو رہا ہے۔لیکن جن کی آنکھوں پر پٹی ہے وہ اس کو دیکھ نہیں سکتے۔" پھر ایک جگہ اس آیت کی وضاحت فرماتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ : (ملفوظات جلد 5 صفحہ 14)