خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 507
خطبات مسرور جلد 15 507 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20اکتوبر 2017 فساد کی حالت سے نکالنے والی بن سکتی ہیں۔اس کے علاوہ مسلمانوں کے لئے اپنی بقا کو قائم رکھنے کے لئے ، اپنے ملکوں میں امن قائم رکھنے کے لئے ، اسلام کی شان و شوکت کو دنیا پر ظاہر کرنے کے لئے کوئی اور راستہ نہیں۔نیک نتائج اس وقت قائم ہوں گے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقی پیروی ہو گی ورنہ لَا اِلهَ إِلَّا اللہ کا نعرہ بھی کھوکھلا ہے اور مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ کا نعرہ بھی کھو کھلا ہے۔اس وقت میں نے اس آیت کی تشریح میں بعض اقتباسات لئے ہیں جو آپ نے فرمائے۔ایک جگہ آپ فرماتے ہیں کہ : "مسلمانوں میں اندرونی تفرقہ کا موجب بھی یہی حُب دنیا ہی ہوئی ہے۔کیونکہ اگر محض اللہ تعالیٰ کی رضا مقدم ہوتی تو آسانی سے سمجھ میں آسکتا تھا کہ فلاں فرقے کے اصول زیادہ صاف ہیں اور وہ انہیں قبول کر کے ایک ہو جاتے۔اب جبکہ حُب دنیا کی وجہ سے یہ خرابی پید اہو رہی ہے تو ایسے لوگوں کو کیسے مسلمان کہا جا سکتا ہے جبکہ ان کا قدم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم پر نہیں۔اللہ تعالیٰ نے تو فرمایا تھا : قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ (ال عمران : 32) یعنی " کہو " اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو۔اللہ تعالیٰ تم کو دوست رکھے گا۔" آپ فرماتے ہیں کہ " اب اس حُب اللہ کی بجائے اور اتباع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بجائے حُب الدنیا کو مقدم کیا گیا ہے۔کیا یہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع ہے ؟ کیا آنحضرت صلی للہ ہم دنیادار تھے ؟ کیا وہ "انعوذ باللہ " سود لیا کرتے تھے ؟ یا فرائض اور احکام الہی کی بجا آوری میں غفلت کیا کرتے تھے ؟ کیا آپ میں معاذ اللہ نفاق تھا ؟ مداہنہ تھا؟ دنیا کو دین پر مقدم کرتے تھے ؟ غور کر واتباع تو یہ ہے کہ آپ صلی للی نیم کے نقش قدم پر چلو اور پھر دیکھو کہ خدا تعالیٰ کیسے کیسے فضل کرتا ہے۔" ( ملفوظات جلد 8 صفحہ 348-349) لیکن آجکل عملی طور پر جو مسلمانوں کی حالت ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کی جو فعلی شہادت اس کے خلاف ہے وہ اس بات کی گواہ ہے کہ اُن کا یہ برا حال ہو رہا ہے۔ملک ملک لڑ رہے ہیں۔غیروں کے پاس جا کر ہم مسلمان ممالک دوسرے مسلمان ممالک کے خلاف لڑنے کے لئے بھیک مانگتے ہیں۔اب گزشتہ دنوں امریکہ کے صدر نے جو ایران کے خلاف دوبارہ پابندیاں لگانے کا ایک اعلان کیا اور اس کے اوپر کام ہو رہا ہے اس پہ سارا یورپ، یورپی یونین، دوسرے ممالک اس کے خلاف ہیں۔اور یہاں انگلستان میں ایک انگریز کالم لکھنے والے نے لکھا کہ امریکہ کے صدر کی اس حرکت پر ساری دنیا خلاف ہے سوائے تین ممالک ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ امریکہ بڑا اچھا کر رہا ہے۔ایک تو امریکہ خود ایک اسرائیل اور ایک سعودی عرب۔اب سعودی عرب مسلمان ملک کے خلاف ایک غیر مسلم ملک کو جنگ کرنے کی اجازت دے رہا ہے بلکہ اس کا ساتھ