خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 506
خطبات مسرور جلد 15 506 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 20اکتوبر 2017 آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کے بارے میں تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا یہ سنہری حروف میں لکھا جانے والا بیان ہے کہ "كَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآن" (مسند امام احمد بن حنبل جلد 8 صفحه 305 حدیث 25816 مسند عائشة مطبوعه عالم الكتب العلمية بيروت 1998ء) کہ آپ کی سیرت اور آپ کے معمولات کا پتہ کرنا ہے تو قرآن کریم آپ کی سیرت کی تفصیل ہے اسے پڑھو۔اور یہ نمونے آپ نے اس لئے قائم فرمائے کہ آپ کو ماننے والے مومن اس پر عمل کریں۔صرف نعرے لگانے کے لئے نہیں۔اللہ تعالیٰ نے بھی یہی فرمایا ہے کہ میرے سے حقیقی تعلق صرف لا الهَ إِلَّا اللہ کہنے سے قائم نہیں ہو گا بلکہ میری محبت کو حاصل کرنا ہے تو پھر میرے محبوب رسول کی پیروی کرو۔اس کے اُسوہ کو اپناؤ تو میرے پیارے بن جاؤ گے۔تمہیں وہ مقام مل جائے گا جو اللہ تعالیٰ کی قربت کا مقام ہے ورنہ تمہارے نعرے کھو کھلے ہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (آل عمران:32) کہ تو کہہ دے کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو۔اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔اور اللہ بہت بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔کیا اللہ تعالیٰ جس سے محبت کرے اس کا یہی حال ہوتا ہے جو آجکل کے مسلمانوں کا ہے۔علماء جن کو عائمہ المسلمین عام طور پر اللہ تعالیٰ کا پیارا سمجھتے ہیں، اس کے قریب سمجھتے ہیں، وہ سب سے زیادہ دنیا میں فساد پیدا کر رہے ہیں۔اب تو خود پاکستان میں بعض تجزیہ نگار اور کالم نویس اخباروں میں بھی لکھنے لگ گئے ہیں، دوسرے میڈیا پر بھی کہنے لگ گئے ہیں کہ مسلمانوں کی یہ حالت ان نام نہاد علماء نے ایسی کر دی ہے۔پس اس وقت مسلمان علماء کی عمومی حالت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ کوئی قرآن اور سنت کی حقیقت بتانے والا ہو اور وہ اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے مطابق بھیج دیا ہے۔لیکن علماءنہ خود اس کی بات سننا چاہتے ہیں، نہ عوام کو سنے دیتے ہیں۔بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والے کے خلاف کفر کے فتوے دے کر ایک عمومی خوف وہر اس اور فتنہ وفساد کی صورت پیدا کر دی ہے۔یہ الزام حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ہر روز لگتا ہے کہ آپ نے نعوذ باللہ دنیاوی خواہشات کی تکمیل اور اپنی بڑائی کے لئے جماعت کا قیام کیا ہے۔بہر حال ہم جانتے ہیں کہ آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کی تجدید و تکمیل اشاعت کے لئے ہی اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھیجا تھا۔قرآن کریم کے علوم و معارف کا فہم و ادراک آپ کے ذریعہ سے ہی ہمیں حاصل ہوا۔آپ نے ہر موقع پر قرآن کریم کی تعلیم کی روشنی میں ہماری رہنمائی فرمائی۔چنانچہ اس آیت قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله کو مختلف مواقع پر مختلف زاویوں اور معانی کے ساتھ آپ نے پیش فرمایا اور یہی وہ باتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کا قرب دلا کر ، اس کا پیارا بنا کر فتنہ و