خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 505
خطبات مسرور جلد 15 505 42 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20اکتوبر2017 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 20 / اکتوبر 2017ء بمطابق 20/ اخاء1396 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، لندن، یوکے تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: گزشتہ جمعہ کے خطبہ میں میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک حوالہ پڑھا تھا جس میں آپ نے مسلمانوں کی عمومی حالت کے بارے میں فرمایا تھا کہ اگر ان کی یہ حالت نہ ہو گئی ہوتی اور وہ حقیقت اسلام سے بکلی ڈور نہ جا پڑے ہوتے تو پھر میرے آنے کی ضرورت کیا تھی۔ان لوگوں کی ایمانی حالتیں بہت کمزور ہو گئی ہیں اور وہ اسلام کے مفہوم اور مقصد سے محض ناواقف ہیں۔پھر آگے آپ نے یہ بھی فرمایا تھا اس کا پہلے ذکر نہیں ہوا تھا کہ " یہ لوگ سمجھتے نہیں کہ ہم میں کون سی بات اسلام کے خلاف ہے۔ہم لَا إِلهَ إِلَّا اللہ کہتے ہیں۔" یعنی مسلمان عمومی طور پر سمجھتے ہیں کہ ہم لَا اِلهَ اِلَّا الله کہتے ہیں " اور نمازیں بھی پڑھتے ہیں اور روزے کے دنوں میں روزے بھی رکھتے ہیں اور زکوۃ بھی دیتے ہیں۔" آپ فرماتے ہیں کہ " مگر میں کہتا ہوں کہ ان کے تمام اعمال اعمالِ صالحہ کے رنگ میں نہیں ہیں۔۔۔ورنہ اگر یہ اعمال صالحہ ہیں تو پھر ان کے پاک نتائج کیوں پیدا نہیں ہوتے ؟ اعمال صالحہ تو تب ہو سکتے ہیں کہ وہ ہر قسم کے فساد اور ملاوٹ سے پاک ہوں لیکن ان میں یہ باتیں کہاں ہیں ؟" ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 343) آج ہم دیکھتے ہیں تو سب سے زیادہ فساد کی حالت مسلمان ممالک میں ہے۔مسلمان گروہوں میں ہے۔ایک دوسرے کی گردنیں کاٹنے پر سرگرم ہیں۔ہر ایک لا إِلهَ إِلَّا اللہ تو پڑھتا ہے اور دوسرے لا إِلهَ إِلَّا الله پڑھنے والے کا خون کرتا ہے۔اس کا حق مارتا ہے۔کسی بھی ذریعہ سے اس کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے، کیا یہی قرآن کریم کی تعلیم ہے جس پر یہ لوگ عمل کر رہے ہیں؟ کیا یہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ ہے جس کی یہ لوگ پیروی کر رہے ہیں؟ آجکل تو ہم دیکھتے ہیں کہ ہر جگہ دنیا داری غالب ہے۔اگر مذہب کا نام بھی لیتے ہیں تو سیاست چمکانے کے لئے اور اپنے زعم میں اپنی حکومتیں قائم کرنے کے لئے یا بچانے کے لئے۔