خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 503
خطبات مسرور جلد 15 503 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 اکتوبر 2017 جس دن یہ نام رکھا گیا تھا اسی دن ڈاکٹر سلام مرحوم کے قریب ترین جو لوگ ہیں، ڈاکٹر سلام صاحب مرحوم کے بیٹے نے اور ان کی تمام اولا د نے وزیر اعظم پاکستان کو خط لکھا تھا جس کا جواب نہیں آیا کہ ہمیں حیرت ہے کہ ڈاکٹر صاحب کی وفات کے بیس سال کے بعد پاکستان کی حکومت کو یہ خیال آیا کہ پاکستان کے اس نامور سائنسدان کے نام پر کسی ڈیپارٹمنٹ کا نام رکھا جائے۔انہوں نے یہ بھی لکھا کہ باوجو د اس کے کہ میرے باپ کو پاکستان کے آئین نے غیر مسلم قرار دیا تھا اور اس بات کا انہیں صدمہ بھی تھا لیکن اس کے باوجود انہوں نے اپنی پاکستانی شہریت نہیں چھوڑی بلکہ ان کو برطانیہ، اٹلی حتی کہ انڈیا کی طرف سے بھی شہریت دینے کی پیشکش ہوئی تھی لیکن انہوں نے کہا کہ میں ہمیشہ سے پاکستان کا وفادار تھا اور ہمیشہ پاکستان کا وفادار رہوں گا اور اس کی بہتری کے لئے ہمیشہ کوشش کرتارہوں گا اور وہ کرتے بھی رہے۔بہر حال خلاصہ یہ کہ ڈاکٹر سلام صاحب کے بچوں نے اُس وقت کے وزیر اعظم پاکستان کو لکھا تھا کہ ہم مسلمان ہیں اور ہمیں جماعت احمدیہ سے اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر تعلق ہے۔ہم نے مسیح موعود کو مانا ہے۔اس لئے ہم جو سلام خاندان کے افراد ہیں، ڈاکٹر سلام کے جو بچے ہیں، حکومت کے اس فیصلے پر خوشی کے اظہار کے بجائے اس لئے لا تعلقی کا اظہار کرتے ہیں کہ ہمارے حقوق پاکستان میں ادا نہیں کئے جار ہے۔جو ہم کہتے ہیں وہ ہمیں سمجھا نہیں جاتا۔اپنے آپ کو اس سے disassociate کرتے ہیں۔تو یہ تو ڈاکٹر سلام صاحب کے بچوں کارد عمل تھا۔اگر پاکستان کی اسمبلی یہ نام بدلنا چاہتی ہے تو بڑی خوشی سے بدلے۔سلام خاندان کو یا جماعت احمد یہ کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔پھر کہتے ہیں کہ احمدیوں کو فوج میں بھرتی نہیں کرنا چاہئے۔آج تک کی پاکستان کی تاریخ تو یہ بتاتی ہے کہ احمدی جتنے بھی فوج میں گئے انہوں نے ملک کی خاطر ہر قربانی دی۔عام طور پر سپاہی یا جو نیئر کمشنڈ افسر یا زیادہ سے زیادہ کرنل میجر تک کے لوگ قربانیاں دیتے ہیں۔لیکن احمدی وہ ہیں جن کے لوگ جنرل کے رینک تک بھی پہنچے تو اگلے مورچوں پر رہے اور شہید بھی ہوئے تو احمدی جنرل۔اس کو آجکل پاکستانی میڈیا بھی زیر بحث لا رہا ہے۔حقائق سامنے ہیں۔وہ کہتے ہیں تم یہ کیا باتیں کرتے ہو اور انہوں نے پھر جنرل اختر کے ، جنرل علی کے نام لئے۔میڈیا میں نام لیا جا رہا ہے جنرل افتخار کا جو شہید ہوئے تھے۔اور یہ ممبر صاحب جنہوں نے بڑی دھو آں دار تقریر کی تھی یہ تو فوج میں کیپٹن کے عہدے تک پہنچے اور پھر وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ کا داماد بننے کی وجہ سے فوج سے استعفیٰ دے دیا اور پیسے کی دوڑ میں شامل ہو گئے اور سیاست میں آگئے۔اگر حب الوطنی کا جذبہ تھا تو پھر ان کو فوج میں رہنا چاہئے تھا اور ملک کی خاطر قربانی دینی چاہئے تھی۔اسی طرح احمدیوں پر یہ اعتراض کئے جاتے ہیں کہ یہ قوم کی خدمت نہیں کرتے۔یہ قوم کے وفادار نہیں