خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 502 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 502

خطبات مسرور جلد 15 502 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 اکتوبر 2017 حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے دشمنی کی جاتی۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے سے دشمنی کرنا پھر کافر بنادیتا ہے۔پس یہ لوگ کیونکہ ہمیں کافر کہتے ہیں اور مسلمان کلمہ گو کو کافر کہنے والا اسے دائرہ اسلام سے خارج کر دیتا ہے۔خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بھی اس بارہ میں ہے۔(سنن ابی داؤد كتاب السنة باب الدليل على زيادة الايمان و نقصانه حدیث 4687) پس یہ لوگ جو ہمیں کافر کہتے ہیں خود اس الزام کے نیچے آجاتے ہیں اس لئے ہمدردی کے جذبے سے ہم ان کلمہ گوؤں سے یہی کہتے ہیں کہ اپنی حالتوں پر رحم کرو اور دیکھو اور سمجھو کہ خدا تعالیٰ کیا چاہتا ہے اور کیا کہہ رہا ہے ؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے یہ چند حوالے جو میں نے پیش کئے ہیں کاش یہ شریف الطبع مسلمانوں کے لئے ہدایت کا باعث بن جائیں اور وہ ہم پر الزام لگانے کی بجائے اپنی حالتوں کو دیکھیں۔پاکستان کی اسمبلی میں قانون بنانے کے الفاظ کے بارے میں ان کے جو آپس کے معاملات طے تھے ان کے طے ہو جانے کے بعد پھر چند دن پہلے ایک ممبر اسمبلی نے بلا وجہ ایک اشتعال دلانے والی تقریر کی ہے۔یہ صرف اسمبلی کے ممبران کو جھوٹی غیرت دلانے کے لئے نہیں تھی بلکہ اس کے ساتھ ہی عوام کو بھڑ کانے اور ملک میں فساد پیدا کرنے کی ایک کوشش تھی تا کہ احمدیوں کے خلاف سارے اٹھ کھڑے ہوں۔اور اس کی یہ بھی کوشش تھی کہ اپنے آپ کو ملک کا بڑا وفادار لیڈر ثابت کرے تا کہ اس کی سیاسی زندگی کو شاید کوئی نئی زندگی مل جائے۔لیکن اس پر وہاں کے بعض عقل رکھنے والے سیاستدانوں اور میڈیا کے لوگوں نے اور شریف طبقے نے ناپسندیدگی کا اظہار بھی کیا ہے۔اس لئے ہمیں اس لحاظ سے بھی امید رکھنی چاہئے کہ پاکستان میں شرفاء کا ایسا طبقہ ہے جس نے غلط کام کے خلاف آواز اٹھانا شروع کر دی ہے اور ان لوگوں نے پھر اس کو حقائق بھی بتائے کہ تم جو جو اعتراض کر رہے ہو اس میں حقیقت کیا ہے ؟ اپنی طرف سے بڑا میدان مارنے والے اس ممبر اسمبلی نے کہا کہ ہماری غیرت گوارا نہیں کرتی کہ قائد اعظم یونیورسٹی میں فزکس ڈیپارٹمنٹ کا نام ڈاکٹر عبد السلام صاحب کے نام پر رکھا جائے کیونکہ وہ کا فر ہیں۔وہ ختم نبوت پر یقین نہیں رکھتے۔ان کو یہ سوچنا چاہئے جس نے یہ نام رکھا ہے وہ بھی تو خود ان کی اپنی ہی پارٹی کے وزیر اعظم تھے اور صدر تھے۔اور یہی نہیں بلکہ اس ممبر اسمبلی کے سر بھی ہیں۔اس وقت کیوں نہ غیرت دکھائی اور اس وقت کیوں نہ غیرت کا اظہار کیا جب یہ سب کچھ رکھا جارہا تھا۔صرف اس لئے کہ اب کیونکہ اس پارٹی پر الزام لگ رہا ہے اور یہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں بچانے کا ایک ہی ذریعہ ہے کہ احمدیوں کے خلاف جو کچھ منہ میں آتا ہے بولتے چلے جاؤ۔باقی جہاں تک احمدیوں کا سوال ہے ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ نام رکھا ہے یا نہیں رکھا۔بلکہ