خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 501 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 501

خطبات مسرور جلد 15 501 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 اکتوبر 2017 اور مدد گاروں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو۔" تو یہ لعنت حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے اوپر یا جماعت پر تو نہیں بھیج رہے۔اس کا مطلب ہے کہ آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کو سب سے زیادہ روحانی فیض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہنچا اور آپ ہی اس مقام پر پہنچے جہاں اللہ تعالیٰ نے آپ کو آپ کی اتباع میں غیر شرعی نبوت کا اعزاز دیا۔آپ فرماتے ہیں : " آسمان کے نیچے محمد مجتبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا ہمارا کوئی نبی نہیں اور قرآن کریم کے سوا ہماری کوئی کتاب نہیں اور جس نے بھی اس کی مخالفت کی وہ اپنے آپ کو جہنم کی طرف کھینچ کر لے گیا۔" (مواہب الرحمان روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 2877285 عربی سے اردو ترجمہ۔بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعود ( سور 15 احزاب زیر آیت (41) جلد 3 صفحہ 699 ت701) آپ نے بیشمار جگہ کھول کھول کر ختم نبوت کی حقیقت اور اس کے مقام اور اس کے مقابل اپنے مقام اور حیثیت کا ذکر فرمایا ہے اور فرمایا ہے کہ اگر مسلمان دین پر قائم ہوتے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی متبع ہوتے تو میرے آنے کی ضرورت ہی کیا تھی ؟ چنانچہ ایک جگہ آپ فرماتے ہیں کہ : " دنیا کی مثالوں میں سے ہم ختم نبوت کی مثال اس طرح پر دے سکتے ہیں کہ جیسے چاند ہلال سے شروع ہو تا ہے اور چودھویں تاریخ پر اگر اس کا کمال ہو جاتا ہے جبکہ اسے بدر کہا جاتا ہے۔اسی طرح پر آنحضرت صلی اللہ ظلم پر آکر کمالات نبوت ختم ہو گئے۔جو لوگ یہ مذہب رکھتے ہیں کہ نبوت زبر دستی ختم ہو گئی اور آنحضرت کو یونس بن متی پر بھی ترجیح نہیں دینی چاہئے انہوں نے اس حقیقت کو سمجھا ہی نہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل اور کمالات کا کوئی علم ہی اُن کو نہیں ہے۔باوجود اس کمزوری فہم اور کمی علم کے ہم کو کہتے ہیں کہ ہم ختم نبوت کے منکر ہیں۔"خود تو ان کو سمجھ نہیں آئی لیکن ہمیں کہتے ہیں کہ ہم ختم نبوت کے منکر ہیں۔فرمایا کہ "میں ایسے مریضوں کو کیا کہوں اور ان پر کیا افسوس کروں۔اگر ان کی یہ حالت نہ ہو گئی ہوتی اور وہ حقیقت اسلام سے بکلی دُور نہ جا پڑے ہوتے۔"آجکل مسلمانوں کی یہ جو حالت ہے اگر یہ نہ ہوئی ہوتی اور ان کو اسلام کی حقیقت کا کوئی پتا ہی نہیں۔اس سے دور نہ ہٹ گئے ہوتے تو فرمایا " تو پھر میرے آنے کی ضرورت کیا تھی ؟" اگر ان میں ایمان سلامت ہوتا اور ان کی روحانیت صحیح ہوتی تو فرمایا تو پھر میرے آنے کی ضرورت ہی کیا تھی ؟" ان لوگوں کی ایمانی حالتیں بہت کمزور ہو گئی ہیں اور وہ اسلام کے مفہوم اور مقصد سے محض ناواقف ہیں ورنہ کوئی وجہ نہیں ہو سکتی تھی کہ وہ اہل حق سے عداوت کرتے جس کا نتیجہ کافر بنادیتا ہے۔" ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 342-343) یعنی جو حق پر ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجا ہوا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کامل ایمان ویقین رکھتا ہے اس سے عداوت و دشمنی کرنے کی کوئی وجہ نہیں تھی کہ کی جاتی۔