خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 500
خطبات مسرور جلد 15 500 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 اکتوبر 2017 غیرت کی جگہ ہے۔اور یہ کوئی علیحدہ نبوت نہیں اور نہ ہی یہ مقام حیرت ہے۔بلکہ یہ احمد مجتبی ہی ہے جو دوسرے آئینہ میں ظاہر ہوا ہے۔اور کوئی شخص اپنی تصویر پر جسے اللہ نے آئینہ میں دکھایا ہو غیرت نہیں کھاتا۔کیونکہ شاگردوں اور بیٹوں پر غیرت جوش میں نہیں آتی۔پس جو شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فیض پا کر اور آپ میں فنا ہو کر آئے وہ در حقیقت وہی ہے کیونکہ وہ کامل فنا کے مقام پر ہوتا ہے اور آپ کے رنگ میں ہی رنگین اور آپ کی ہی چادر اوڑھے ہوتا ہے اور آپ سے ہی اس نے اپنا روحانی وجود حاصل کیا ہوتا ہے۔اور آپ کے فیض سے ہی اس کا وجود کمال کو پہنچا ہوتا ہے۔اور یہی وہ حق ہے جو ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی برکات پر گواہ ہے۔اور لوگ نبی کریم کا حسن ان تابعین کے لباس میں دیکھتے ہیں جو اپنی کمال محبت وصفائی کی وجہ سے آپ کے وجود میں فناہو گئے۔اور اس کے خلاف بحث کرنا جہالت ہے کیونکہ یہ تو آپ کے ابتر نہ ہونے کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ثبوت ہے۔اور تدبر کرنے والوں کے لئے اس کی تفصیل کی ضرورت نہیں۔اور آپ جسمانی طور پر تو مر دوں میں سے کسی کے باپ نہیں لیکن اپنی رسالت کے فیضان کی رُو سے ہر اس شخص کے باپ ہیں جس نے روحانیت میں کمال حاصل کیا۔اور آپ تمام انبیاء کے خاتم اور تمام مقبولوں کے سردار ہیں۔اور اب خدا تعالیٰ کی درگاہ میں وہی شخص داخل ہو سکتا ہے جس کے پاس آپ کی مہر کا نقش ہو اور آپ کی سنت پر پوری طرح سے عامل ہو۔اور اب کوئی عمل اور عبادت آپ کی رسالت کے اقرار کے بغیر اور آپ کے دین پر ثابت قدم رہنے کے بدوں خدا تعالیٰ کے حضور مقبول نہیں ہو گی۔اور جو آپ سے الگ ہو گیا اور اس نے اپنے مقدور اور طاقت کے مطابق آپ کی پیروی نہ کی وہ ہلاک ہو گیا۔آپ کے بعد اب کوئی شریعت نہیں آسکتی اور نہ کوئی آپ کی کتاب اور آپ کے احکام کو منسوخ کر سکتا ہے اور نہ کوئی آپ کے پاک کلام کو بدل سکتا ہے۔اور کوئی بارش آپ کی موسلا دھار بارش کی مانند نہیں ہو سکتی۔" یعنی روحانی بارش۔" اور جو قرآن کریم کی پیروی سے ذرہ بھر بھی دُور ہو اوہ ایمان کے دائرے سے خارج ہو گیا۔اور اس وقت تک کوئی شخص ہر گز کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک وہ ان تمام باتوں کی پیروی نہ کرے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں۔اور جس نے آپ کے وصایا میں سے کوئی چھوٹی سی وصیت بھی ترک کر دی تو وہ گمراہ ہو گیا۔اور جس نے اس اُمت میں نبوت کا دعویٰ کیا اور یہ اعتقاد نہ رکھا کہ وہ خیر البشر محمد مصطفی کا ہی تربیت یافتہ ہے اور آپ کے اُسوہ حسنہ کے بغیر بیچ محض ہے۔" کوئی حیثیت نہیں اس کی " اور یہ کہ قرآن کریم خاتم الشرائع ہے تو وہ ہلاک ہو گیا۔اور وہ کافروں اور فاجر وں میں جاملا۔اور جس شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا اور یہ اعتقاد نہ رکھا کہ وہ آپ ہی کی اُمت میں سے ہے اور یہ کہ جو کچھ اس نے پایا ہے وہ آپ ہی کے فیضان سے پایا ہے اور یہ کہ وہ آپ ہی کے باغ کا ایک پھل اور آپ ہی کی موسلا دھار بارش کا ایک قطرہ اور آپ ہی کی روشنی کی ایک کرن ہے تو وہ ملعون ہے۔اور اس پر اور اس کے ساتھیوں پر اور اس کے اتباع