خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 499
خطبات مسرور جلد 15 499 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 اکتوبر 2017 حقیقی معنوں پر مستعمل نہیں ہے اور اصل حقیقت جس کی میں علی رؤوس الا شہاد گواہی دیتا ہوں یہی ہے جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔نہ کوئی پرانا اور نہ کوئی نیا۔وَمَنْ قَالَ بَعْدَ رَسُوْلِنَا وَسَيّدِنَا إِنِّي نَبِيُّ أَوْ رَسُولٌ عَلَى وَجْهِ الْحَقِيقَةِ وَالْاِفْتِرَاءِ وَتَرَكَ الْقُرْآنَ وَأَحْكَامُ الشَّرِيعَةِ الْغَرَّاءِ فَهُوَ كَافِرُ كَذَّابٌ " فرمایا کہ " غرض ہمارا مذہب یہی ہے کہ جو شخص حقیقی طور پر نبوت کا دعویٰ کرے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن فیوض سے اپنے تئیں الگ کر کے اور اس پاک سر چشمہ سے جدا ہو کر آپ ہی براہ راست نبی اللہ بنا چاہتا ہے تو وہ ملحد بے دین ہے۔اور غالباً ایسا شخص اپنا کوئی نیا کلمہ بنائے گا اور عبادت میں کوئی نئی طر ز پیدا کرے گا اور احکام میں کچھ تغیر و تبدل کر دے گا۔پس بلاشبہ وہ مسیلمہ کذاب کا بھائی ہے اور اس کے کافر ہونے میں کچھ شک نہیں۔ایسے خبیث کی نسبت کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ وہ قرآن شریف کو مانتا ہے۔" انجام آتھم ، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 27-28 حاشیہ ) پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی اور آپ کی شریعت پر چلتے ہوئے جس کو اللہ تعالیٰ یہ اعزاز دیتا ہے اس کو تو اعزاز مل سکتا ہے دوسرے کو نہیں۔اور نہ ہی کوئی آپ کی غلامی سے باہر جاکر مسلمان کہلا سکتا ہے۔پھر مزید وضاحت فرماتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : "ہم مسلمان ہیں اور ہم خدا تعالیٰ کی کتاب فرقان مجید پر ایمان لاتے ہیں اور یہ بھی یقین رکھتے ہیں کہ ہمارے آقا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کے نبی اور اس کے رسول ہیں اور یہ کہ آپ بہترین دین لے کر آئے۔اور اس بات پر بھی ایمان رکھتے ہیں کہ آپ خاتم الانبیاء ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں مگر وہی جس کی تربیت آپ کے فیضان سے ہوئی ہو۔" جس طرح کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ہوئی " اور جس کا ظہور آپ کی پیشگوئی کے مطابق ہوا اور اللہ تعالی اس اُمت کے اولیاء کو اپنے مکالمات اور مخاطبات سے مشرف کرتا ہے اور انہیں انبیاء کے رنگ سے رنگین کیا جاتا ہے لیکن وہ حقیقی طور پر نبی نہیں ہوتے۔کیونکہ قرآن کریم نے شریعت کی تمام ضروریات کو پورا کر دیا ہے۔اور ان کو فہم قرآن عطا کیا جاتا ہے لیکن وہ نہ تو قرآن کریم میں کسی قسم کا اضافہ کرتے ہیں اور نہ اس میں کوئی کمی کرتے ہیں۔اور جس شخص نے قرآن کریم میں کوئی اضافہ کیا یا کوئی نصہ کم کیا تو وہ شیطانِ فاجر ہے۔اور ختم نبوت سے ہم یہ مراد لیتے ہیں کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جو اللہ تعالیٰ کے سب رسولوں اور نبیوں سے افضل ہیں تمام کمالات نبوت ختم ہو گئے ہیں۔اور ہم یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ آپ کے بعد نبوت کے مقام پر وہی شخص فائز ہو سکتا ہے جو آپ کی امت میں سے ہو اور آپ کا کامل پیر و ہو اور اس نے تمام کا تمام فیضان آپ ہی کی روحانیت سے پایا ہو اور آپ کے نور سے منور ہو ا ہو۔اس مقام میں کوئی غیریت نہیں اور نہ ہی یہ