خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 498
خطبات مسرور جلد 15 498 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 اکتوبر 2017 معجزات اور قوت قدسیہ پر اعتراض ہوتے مگر حضور نے آکر ان سب کو پاک ٹھہرایا۔" پہلے سب انبیاء کو تصدیق کیا۔" اس لئے آپ کی نبوت کے نشانات سورج سے زیادہ روشن ہیں اور بے انتہا اور بے شمار ہیں۔پس آپ کی نبوت یا نشانات نبوت پر اعتراض کرنا ایسا ہی ہے جیسے کہ دن چڑھا ہوا ہو اور کوئی احمق نابینا کہہ دے کہ ابھی تو رات ہی ہے۔میں پھر کہتا ہوں کہ دوسرے مذاہب تاریکی ہی میں رہتے اگر اب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ آتے۔ایمان تباہ ہو جاتا اور زمین لعنت اور عذاب الہی سے تباہ ہو جاتی۔اسلام شمع کی طرح منور ہے جس نے دوسروں کو بھی تاریکی سے نکالا ہے۔توریت کو پڑھو تو بہشت اور دوزخ کا پتا ہی ملنا مشکل ہو جاتا ہے۔انجیل کو دیکھو تو توحید کا نشان نہیں ملتا۔اب بتلاؤ کہ اس میں تو شک نہیں کہ یہ دونوں کتابیں اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے تھیں اور ہیں لیکن ان میں کون سی روشنی مل سکتی ہے۔سچی روشنی اور حقیقی نور جو نجات کے لئے مطلوب ہے وہ اسلام ہی میں ہے۔توحید ہی کو دیکھو کہ جہاں سے قرآن کو کھولو وہ ایک شمشیر برہنہ نظر آتا ہے کہ شرک کی جڑ کاٹ رہا ہے۔ایسا ہی نبوت کے تمام پہلو ایسے صاف اور روشن نظر آتے ہیں کہ ان سے بڑھ کر ممکن نہیں۔" ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 282-283 پس یہ ہے ختم نبوت کا وہ ادراک جو آپ نے ہمیں دیا۔آجکل کے علماء آپس میں تو ایک دوسرے پر الزام تراشیاں کر رہے ہیں لیکن یہ جرات نہیں کہ دوسرے مذاہب کو ان کا چہرہ دکھا کر ان کی کمزوریاں دکھائیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی برتری ثابت کریں۔یہ کام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تربیت اور علم کی وجہ سے جماعت احمد یہ ہی کر رہی ہے۔لیکن پھر بھی ان کی نظر میں ہم کافر اور یہ مومن۔اپنے دعوے کی حقیقت بیان کرتے ہوئے، اپنی ایک کتاب میں وضاحت فرماتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ کیا ایسا بد بخت مفتری جو خود رسالت اور نبوت کا دعوی کرتا ہے قرآن شریف پر ایمان رکھ سکتا ہے اور کیا ایساوہ شخص جو قرآن شریف پر ایمان رکھتا ہے اور آیت وَلكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّنِ (الاحزاب: 41) کو خدا کا کلام یقین رکھتا ہے وہ کہہ سکتا ہے کہ میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد رسول اور نبی ہوں۔صاحب انصاف طلب کو یاد رکھنا چاہئے کہ اس عاجز نے کبھی اور کسی وقت حقیقی طور پر نبوت یا رسالت کا دعویٰ نہیں کیا۔اور غیر حقیقی طور پر کسی لفظ کو استعمال کرنا اور لغت کے عام معنوں کے لحاظ سے اس کو بول چال میں لانا مستلزم کفر نہیں۔" یعنی پھر اس کو کافر نہیں بناتا۔"مگر میں اس کو بھی پسند نہیں کرتا کہ اس میں عام مسلمانوں کو دھو کہ لگ جانے کا احتمال ہے۔لیکن وہ مکالمات اور مخاطبات جو اللہ جل شانہ کی طرف سے مجھ کو ملے ہیں جن میں یہ لفظ نبوت اور رسالت کا بکثرت آیا ہے ان کو میں بوجہ مامور ہونے کے مخفی نہیں رکھ سکتا۔اللہ تعالیٰ نے مجھے کہا ہے اس لئے میں چھپا نہیں سکتا۔" لیکن بار بار کہتا ہوں کہ ان الہامات میں جو لفظ مرسل یار سول یا نبی کا میری نسبت آیا ہے وہ اپنے