خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 497
خطبات مسرور جلد 15 497 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 اکتوبر 2017 کامل روشنی نہیں تھی۔اگر پہلے دینوں میں کامل روشنی ہوتی تو عربوں پر بھی اثر پڑنا چاہئے تھا۔فرمایا کہ " عرب سے وہ آفتاب نکلا کہ اُس نے ہر قوم کو روشن کیا اور ہر بستی پر اپنا نور ڈالا۔لیکن یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام ہے۔آپ وہ روشن سورج ہیں جنہوں نے ہر قوم کو روشن کیا۔ہر جگہ ہر کونے میں ہر شہر میں آپ کا نور پہنچا۔فرمایا کہ " یہ قرآن کریم ہی کو فخر حاصل ہے کہ وہ توحید اور نبوت کے مسئلہ میں گل دنیا کے مذاہب پر فتح یاب ہو سکتا ہے۔" توحید اور نبوت کے جو مسائل اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان فرمائے ہیں وہ ایسے دلائل ہیں جو پہلے کسی مذہب کو دیے نہیں گئے۔پس یہ مطلب ہے کہ شریعت کامل ہو گئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء کہلائے۔فرمایا کہ " یہ فخر کا مقام ہے کہ ایسی کتاب مسلمانوں کو ملی ہے، جو لوگ حملہ کرتے ہیں اور تعلیم و ہدایت اسلام پر معترض ہوتے ہیں وہ بالکل کو رباطنی اور بے ایمانی سے بولتے ہیں۔" (ملفوظات جلد اوّل صفحہ 283) پس اسلام ہی ہے جو عرب سے نکلا اور دنیا کے کونے کونے میں پھیل گیا اور آج تک اپنی اصل تعلیم کے ساتھ دنیا کے ہر کونے میں پھیل رہا ہے۔اور آج جماعت احمد یہ اپنی تمام تر طاقتوں اور وسائل کے ساتھ توحید اور نبوت کے مقام کو دنیا کے ہر قصبہ اور گاؤں اور گلی میں پھیلا رہی ہے۔پس ہم ہیں جو ختم نبوت کا اور آپ پر اتری ہوئی شریعت کا صحیح ادراک رکھنے والے ہیں۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہی ہیں جنہوں نے دوسرے مذاہب کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کے بارے میں کھول کر بتایا اور نہ صرف آپ کا مقام بتایا بلکہ یہ بھی فرمایا کہ پہلے تمام انبیاء کی تعلیم اس قدر تبدیل ہو چکی ہے کہ ان نبیوں کے مقام اور سچائی کا پتا نہیں چل سکتا کہ وہ بچے بھی تھے یا نہیں۔یہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی مقام ہے جو پہلے انبیاء کی حقیقت اور سچائی بتائی۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں: " تعلیم وہی کامل ہو سکتی ہے جو انسانی قوی کی پوری مربی اور متکفل ہو۔نہ یہ کہ ایک ہی پہلو پر واقع ہوئی ہو۔انجیل کی تعلیم کو دیکھو کہ وہ کیا کہتی ہے اور اس کے بالمقابل قومی کیا تعلیم دیتے ہیں ؟ انسانی قوی اور فطرت خدا تعالیٰ کی فعلی کتاب ہے۔" انسان کے جو قوی ہیں اس کی جو فطرت ہے وہ خدا تعالیٰ کی کتاب کا ایک عملی اظہار ہے۔" پس اس کی قولی کتاب جو کتاب اللہ کہلاتی ہے یا اسے تعلیم الہی کہو اس کی ساخت اور بناوٹ کے مخالف اور متضاد کیونکر ہو گی ؟" اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جو اس کی قولی کتاب ہے جو ہدایت اتاری ہے جو تعلیم دی ہے وہ قرآن کریم ہے۔کتاب اللہ کہلاتی ہے۔اور فطری تعلیم جو انسانی حالتیں ہیں وہ اس کے خلاف نہیں ہو سکتی کیونکہ آپ نے فرمایا کہ انسان کی جو فطرت ہے اور انسانی قوی کی جو حالت اور طاقت ہے وہ اللہ تعالی کی فعلی کتاب ہے اور شریعت اس کی قولی کتاب ہے۔فرمایا " اسی طرح پر اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ آتے تو انبیاء سابقین کے اخلاق، ہدایات،