خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 496
خطبات مسرور جلد 15 496 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 اکتوبر 2017 آدم علیہ السلام سے لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم کیا۔یہ موٹے اور ظاہر معنی ہیں۔دوسرے یہ معنی ہیں کہ کمالات نبوت کا دائرہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہو گیا۔یہ سچ اور بالکل سچ ہے کہ قرآن نے ناقص باتوں کا کمال کیا اور نبوت ختم ہو گئی۔" یعنی قرآن کریم کی تعلیم میں وہ تمام باتیں جو پہلے انبیاء کو دی تھیں اور ان کے معیار اتنے بلند نہیں تھے ان کو اس تعلیم میں کمال تک پہنچادیا اور آپ پر قرآن شریف کی وہ شریعت اتاری گئی اور یہاں نبوت ختم ہو گئی۔کوئی انسان یا بشر اس سے زیادہ اور مزید کمال تک پہنچ ہی نہیں سکتا تھا جو قرآن کریم کے ذریعہ سے پہنچ گیا اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اترا۔فرمایا کہ " اس لئے الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ (المائدة:4) کا مصداق اسلام ہو گیا۔غرض یہ نشانات نبوت ہیں۔ان کی کیفیت اور گنہ پر بحث کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔اصول صاف اور روشن ہیں اور وہ ثابت شدہ صداقتیں کہلاتی ہیں۔" فرمایا کہ " ان باتوں میں پڑنا مومن کو ضروری نہیں۔ایمان لانا ضروری ہے۔اگر کوئی مخالف اعتراض کرے تو ہم اس کو روک سکتے ہیں۔اگر وہ بند نہ ہو تو ہم اس کو کہہ سکتے ہیں کہ پہلے اپنے جزوی مسائل کا ثبوت دے۔" اس کے جو مسائل ہیں ان کا تو ثبوت دے کہ وہ کس طرح حل کر رہا ہے۔فرمایا کہ " الغرض مُہر نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نشان نبوت میں سے ایک نشان ہے۔" یعنی آپ کا خاتم النبیین ہونا آپ کے نشانات میں سے ایک نشان ہے " جس پر ایمان لانا ہر مسلمان مومن کو ضروری ہے۔" ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 286-287) پس اگر کوئی ختم نبوت کا منکر ہے جیسا کہ میں نے پہلے بھی ذکر کیا ہے تو آپ نے فرمایا کہ پھر وہ مسلمان ہی نہیں۔پھر وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔پھر ختم نبوت کے مقام اور اسلام کی برتری اور دوسرے مذاہب پر اس کی کیا فوقیت ہے ، اس کو ثابت کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ : "ختم نبوت کو یوں سمجھ سکتے ہیں کہ جہاں پر دلائل اور معرفت طبعی طور پر ختم ہو جاتے ہیں وہ وہی حد ہے جس کو ختم نبوت کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔اس کے بعد ملحدوں کی طرح نکتہ چینی کرنا بے ایمانوں کا کام ہے۔" فرمایا کہ "ہر بات میں بینات ہوتے ہیں۔" کھلی کھلی باتیں ہوتی ہیں۔" اور ان کا سمجھنا معرفت کا ملہ اور نورِ بصر پر موقوف ہے۔" انسان کو کامل معرفت ہو ، دین کا علم ہو اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے نور بھی ملا ہو تبھی یہ سب چیزیں سمجھ آسکتی ہیں۔فرمایا کہ "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے ایمان اور عرفان کی تکمیل ہوئی۔دوسری قوموں کو روشنی پہنچی۔کسی اور قوم کو بین اور روشن شریعت نہیں ملی۔اگر ملتی تو کیا وہ عرب پر اپنا کچھ بھی اثر نہ ڈال سکتی۔" باقی قوموں کو کامل شریعت ملی ہی نہیں۔جو نبی آئے تھے وہ اپنے اپنے علاقے کے لئے آئے۔آپ نے فرمایا کہ یہ دلیل ہے کہ عربوں کو خدا تعالیٰ کے بارے میں یا دین کے بارے میں کچھ نہیں پتا تھا اور جن کے علم میں بھی تھا، جن کے رابطے بھی تھے انہوں نے بھی نہیں مانا اس لئے کہ کامل شریعت نہیں تھی،