خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 495
خطبات مسرور جلد 15 " 495 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 اکتوبر 2017 یہ بھی یادرکھنا چاہئے کہ مجھ پر اور میری جماعت پر جو یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین نہیں مانتے۔یہ ہم پر افترائے عظیم ہے۔ہم جس قوت یقین، معرفت اور بصیرت کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء مانتے اور یقین کرتے ہیں اُس کا لا کھواں حصہ بھی دوسرے لوگ نہیں مانتے اور ان کا ایسا ظرف ہی نہیں ہے۔وہ اس حقیقت اور راز کو جو خاتم الانبیاء کی ختم نبوت میں ہے سمجھتے ہی نہیں ہیں۔انہوں نے صرف باپ دادا سے ایک لفظ سنا ہوا ہے مگر اس کی حقیقت سے بے خبر ہیں اور نہیں جانتے کہ ختم نبوت کیا ہوتا ہے اور اُس پر ایمان لانے کا مفہوم کیا ہے ؟ مگر ہم بصیرت تام سے (جس کو اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء یقین کرتے ہیں۔اور خدا تعالیٰ نے ہم پر ختم نبوت کی حقیقت کو ایسے طور پر کھول دیا ہے کہ اس عرفان کے شربت سے جو ہمیں پلایا گیا ہے ایک خاص لذت پاتے ہیں جس کا اندازہ کوئی نہیں کر سکتا۔بجز اُن لوگوں کے جو اس چشمہ سے سیراب ہوں۔" (ملفوظات جلد اوّل صفحہ 342) پھر ختم نبوت کی حقیقت بیان کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ : " ہمیں اللہ تعالیٰ نے وہ نبی دیا جو خاتم المومنین"، خاتم العارفین اور خاتم النبیین ہے اور اسی طرح پر وہ کتاب اس پر نازل کی جو جامع الکتب اور خاتم الکتب ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو خاتم النبیین ہیں اور آپ پر نبوت ختم ہو گئی تو یہ نبوت اس طرح پر ختم نہیں ہوئی جیسے کوئی گلا گھونٹ کر ختم کر دے۔"کسی کو مار دیا۔"ایسا ختم قابل فخر نہیں ہو تا۔بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت ختم ہونے سے یہ مراد ہے کہ طبعی طور پر آپ پر کمالات نبوت ختم ہو گئے۔یعنی وہ تمام کمالات متفرقہ جو آدم سے لے کر مسیح ابن مریم نیک نبیوں کو دیئے گئے تھے کسی کو کوئی اور کسی کو کوئی۔وہ سب کے سب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں جمع کر دیئے گئے اور اس طرح پر طبعاً آپ "خاتم النبیین ٹھہرے۔اور ایسا ہی وہ جمیع تعلیمات ، " ساری تعلیمات جو ہیں " وصایا اور معارف جو مختلف کتابوں میں چلے آتے ہیں "جو پہلی شریعتوں میں تھے "وہ قرآن شریف پر آکر ختم ہو گئے اور قرآن شریف خاتم الکتب ٹھہرا۔" ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 341-342) پس یہ ہے وہ حقیقت جس سے ہمارے مخالف لا علم ہیں اور جن علماء کے چنگل میں پھنسے ہوئے ہیں وہ انہیں اپنی گرفت سے باہر نکلنے ہی نہیں دینا چاہتے کہ اگر یہ حقیقت ان کے پیچھے چلنے والوں کو پتا چل جائے تو پھر انہوں نے مذہب کو جو کاروبار بنایا ہوا ہے وہ کاروبار ان کا نہیں چل سکے گا۔خاتم النبیین کے معنی ایک جگہ آپ نے بیان فرمائے۔آپ فرماتے ہیں کہ : ختم نبوت کے متعلق میں پھر کہنا چاہتا ہوں کہ خاتم النبیین کے بڑے معنی یہی ہیں کہ نبوت کے امور کو