خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 491 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 491

خطبات مسرور جلد 15 491 41 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 اکتوبر 2017 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 13 اکتوبر 2017ء بمطابق 13/ اخاء1396 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، لندن، یوکے تشهد و تعوذ اور سورہ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ان آیات کی تلاوت فرمائی: مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيْنَ وَكَانَ اللهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا (الاحزاب: 41) اس آیت کا یہ ترجمہ ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے جیسے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں بلکہ وہ اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے خاتم ہیں اور اللہ ہر چیز کا خوب علم رکھنے والا ہے۔پاکستان میں سیاستدان بھی اور علماء بھی و قتافوقتا کسی نہ کسی بہانے سے احمدیوں کے خلاف اپنا غبار نکالتے رہتے ہیں۔ان کے خیال میں قوم کو اپنے پیچھے چلانے اور اپنا ہم نوا بنانے کا اور شہرت حاصل کرنے کا یہ سب سے آسان طریقہ ہے۔اور سب سے بڑا ہتھیار جو مسلمانوں کے جذبات کو بھڑ کانے کے لئے استعمال ہو سکتا ہے وہ ختم نبوت کا ہتھیار ہے۔پس جب بھی کسی سیاسی پارٹی کی ساکھ خراب ہو رہی ہو ، جب بھی کسی سیاستدان کی پسندیدگی کا گراف گر رہا ہو یا معیار کم ہو رہا ہو ، جب بھی نام نہاد مذہبی تنظیمیں سیاسی شہرت حاصل کرنا چاہیں، دوسری تنظیم ، دوسری سیاسی پارٹی یا دوسرے سیاستدان کو نیچا دکھانا چاہیں تو احمدیوں کے ساتھ ان کے تعلق جوڑ کر یہ کہتے ہیں کہ دیکھو یہ کتنا بڑا ظلم ہونے لگا ہے کہ غیر ملکی طاقتوں کے زیر اثر یہ لوگ احمدیوں کو مین سٹریم (main stream) مسلمانوں میں شامل کرنا چاہتے ہیں یا کر رہے ہیں جبکہ احمدی ان کے خیال میں ختم نبوت کے منکر ہیں۔یہ نام نہاد اسلام کا درد رکھنے والے کہتے ہیں کہ ہم ناموس رسالت پر آنچ نہیں آنے دیں گے اور کبھی ایسا ظلم نہیں ہونے دیں گے۔یہ کتنا بڑا ظلم ہے کہ احمدیوں کو مسلمان کہا جائے اور پھر جب یہ کہتے ہیں کہ ہم اس کی خاطر اپنی جانیں بھی قربان کر دیں گے اس پر دوسری پارٹی جو چاہے حکومت بھی کر رہی ہو اس کے نمائندے فوراً اسمبلی میں کھڑے ہو کر بیان دیں گے کہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ احمدیوں کو کوئی حق ملے بلکہ جو ایک پاکستانی شہری کی حیثیت سے جو