خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 492
خطبات مسرور جلد 15 492 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 اکتوبر 2017 تھوڑا بہت حق ہے چاہے وہ تیسرے درجہ کے شہری کی حیثیت سے ہی ہے، جو تھوڑے حقوق ملے ہوئے ہیں وہ یہ نعرہ لگائیں گے کہ وہ بھی لے لو۔ہر ایک کے اپنے سیاسی ایجنڈے ہیں۔ہر ایک کے اپنے ذاتی مفادات ہیں۔لیکن اس میں تعلق نہ ہوتے ہوئے بھی احمدیوں کو زبر دستی گھسیٹا جاتا ہے کیونکہ یہ بڑا آسان معاملہ ہے۔غیر حکومتی ارکان اسمبلی بھی اور حکومتی ارکان اسمبلی بھی بڑھ بڑھ کر احمدیوں کے خلاف بولتے ہیں۔چنانچہ گزشتہ دنوں پاکستان کی نیشنل اسمبلی میں ایک آئینی ترمیم کے الفاظ میں رد و بدل جو سیاسی پارٹی یا حکومتی پارٹی اپنے مفادات کے لئے کر رہی تھی اس کے سلسلہ میں یہی کچھ ہمارے دیکھنے میں آیا۔پاکستان میں پچھلے دنوں میں بڑا شور مچارہا اور میڈیا کے ذریعہ سے یہ سب کچھ دنیا کے سامنے آچکا ہے۔اس لئے اس بارے میں تو زیادہ بتانے کی ضرورت نہیں۔جہاں تک جماعت احمدیہ کا تعلق ہم نے کسی غیر ملکی طاقت سے نہ ہی کبھی یہ کہا ہے کہ ہمیں پاکستانی اسمبلی کے آئین میں ترمیم کروا کر قانون اور آئین کی نظر میں مسلمان بنوایا جائے۔نہ ہی ہم نے کسی پاکستانی حکومت سے کبھی اس چیز کی بھیک مانگی ہے۔نہ ہی ہمیں کسی اسمبلی یا حکومت سے مسلمان کہلانے کے لئے کسی سر ٹیفکیٹ کی ضرورت ہے، کسی سند کی ضرورت ہے۔ہم اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں کیونکہ ہم مسلمان ہیں۔ہمیں اللہ تعالیٰ نے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمان کہا ہے۔ہم کلمہ لا إِلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ پڑھنے والے ہیں۔ہم تمام ارکان اسلام اور ارکان ایمان پر یقین رکھتے ہیں۔ہم قرآن کریم پر ایمان رکھتے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین مانتے ہیں جیسا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اور اس کی میں نے ابھی تلاوت کی ہے۔ہم اس بات پر علی وجہ البصیرت قائم ہیں کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے صاف صاف اور واضح لکھا ہے۔متعدد جگہ اس کی وضاحت فرمائی ہے کہ جو ختم نبوت کا منکر ہے میں اسے بے دین اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔وہ نہ احمدی ہے، نہ مسلمان ہے۔پس ہمارے خلاف یہ شورش پیدا کی جاتی ہے اور ہم پر الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم ختم نبوت کے منکر ہیں اور نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین نہیں مانتے یہ نہایت گھٹیا اور گھناؤنا الزام ہے جو ہم پر لگایا جاتا ہے۔یہ الزام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعویٰ کے وقت سے جماعت احمد یہ پہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام پہ لگایا جارہا ہے اور وقتا فوقتا جب بھی اپنے مقاصد حاصل کرنے ہوں جیسا کہ میں نے کہا ان لوگوں کو اس بارہ میں وبال اٹھتارہتا ہے۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے ایک دفعہ اپنے ایک خطبہ میں فرمایا تھا کہ یہ الزام جو ہم پر لگاتے ہیں اس کے جھوٹا ہونے کے لئے جب ہم کہتے ہیں کہ ہم ختم نبوت کے منکر کس طرح ہو سکتے ہیں جبکہ ہم قرآن کریم پڑھتے ہیں اور قرآن کریم پر یقین بھی رکھتے ہیں، ایمان بھی لاتے ہیں اور قرآن کریم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین کہتا