خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 489 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 489

489 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 106اکتوبر 2017 خطبات مسرور جلد 15 کانپ رہا تھا اور لگ رہا تھا کہ شاید حملہ کر دے گا بہت خوش ہوا اور کہنے لگا میں تمہارے ساتھ تصویر بنوانا چاہتا ہوں۔آخر پر کہتے ہیں اس کو میں نے مشن ہاؤس آنے کی دعوت دی اور اس نے بڑی خوشی سے قبول کی۔لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ وہ خود لوگوں کے دلوں کو جماعت کے پیغام کے لئے نرم کر رہا ہے۔پچھلی دفعہ میں نے ایک خطبہ میں کہا تھا کہ یہاں جو اسائلم سیکر زہیں وہ تبلیغ کریں۔جرمنی کے ایک اسائلم سیکر ز جو اسائلم پر آئے ، اپلائی کیا ہوا تھا وہ اپنا واقعہ لکھتے ہیں۔کہتے ہیں کہ میری ایک حج کے پاس فائنل پروٹوکول تھی۔اس نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تم اپنی جماعت کے فلائر تقسیم کرتے ہو ؟ اس پر میں نے کہا کہ جی میں فلائر تقسیم کرتا ہوں۔پھر حج نے پوچھا کہ کن جگہوں پر فلائر تقسیم کرتے ہو ؟ میں نے چند جگہوں کے نام لئے تو وہ حج کہنے لگا کہ ٹھیک ہے فلاں جگہ پر میں نے بھی فلائر لیا تھا۔چلو جاؤ تمہارا کیس پاس کرتا ہوں۔تو اس طرح تبلیغ بھی اس کے حق میں فیصلہ کروانے کا ذریعہ بن گئی۔پھر دوبارہ آسٹریلیا کے مبلغ کامران صاحب کا یہ واقعہ ہے۔کہتے ہیں کہ خدام الاحمدیہ کے بعض لڑکوں کو بڑی ہچکچاہٹ ہوتی ہے۔بعض کام کرنے میں شاید شرماتے ہیں کہ یہاں کے لوگ ہمیں کیا کہیں گے ؟ یہاں تو اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اب اتنا تعارف جماعت کا ہو گیا ہے اور اتنا لوگ جانتے ہیں کہ یہاں کے نوجوانوں میں جو یہ جھجھک تھی وہ دُور ہو گئی ہے لیکن بعض جگہوں پر ہے۔کہتے ہیں آسٹریلیا میں خدام الاحمدیہ کے ساتھ ایک تبلیغی پروگرام رکھا گیا جس میں خدام سے کہا گیا کہ وہ جماعتی شرٹس پہن کر باہر جائیں گے اور لوگوں کو تبلیغ کریں گے۔اس پر ایک خادم میرے پاس آیا۔کہنے لگا مجھے جماعتی شرٹس پہنتے ہوئے شرم آتی ہے جس پر لکھا ہوا ہے جماعت احمدیہ۔کہتے ہیں میں نے اسے سمجھایا کہ اسی وجہ سے لوگ ہمارے پاس آئیں گے۔تم پہن کر جاؤ اور دیکھو کیا ہوتا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسا ہی ہوا اور جب خدام الاحمدیہ کا گروپ باہر نکلا تو کہتے ہیں لوگوں نے ہماری تصویریں لینا شروع کر دیں اور اس موقع پر ہمارے انٹر ویو لئے گئے اور تبلیغ کے بہت سے مواقع پیدا ہوئے۔بعد میں یہی خادم جو تھا اپنے دوستوں کو کہنے لگا کہ پہلے مجھے جماعت کی قمیص (شرٹ پہنتے ہوئے جو ٹی شرٹ تھی شرم محسوس ہو رہی تھی لیکن اب مجھے پتا چلا ہے کہ تمام برکات جماعت کے نام سے ہی منسلک ہیں۔تو اس طرح اللہ تعالیٰ اس تبلیغ کے ذریعہ نوجوانوں کی تربیت کے سامان بھی پیدا فرمارہا ہے۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہاماً فرمایا تھا کہ فَحَانَ أَنْ تُعَانَ وَتُعْرَفَ بَيْنَ النَّاسِ۔آپ اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ایک زمانہ آئے گا کہ تیری مدد کی جائے گی اور تولوگوں میں شناخت کیا جائے گا۔یہ وَ تُعْرَفَ بَيْنَ النَّاس کا مطلب ہے۔یہ بات اللہ تعالیٰ نے آپ کو 1883ء میں پہلی دفعہ الہام کی تھی۔اس کے بعد بھی دو دفعہ یہ الہام ہوا جب آپ کو کوئی بھی نہیں جانتا تھا۔آپ فرماتے ہیں کہ کیا یہ