خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 488
خطبات مسرور جلد 15 488 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 06اکتوبر 2017 ہو چکی ہے۔یہ بات ان کو سمجھ آگئی اور وہ اسلام احمدیت میں داخل ہو گئے۔دوران گفتگو موصوف نے بتایا کہ وہ ایک لمبے عرصے سے ہمارا پروگرام بڑے شوق سے سن رہے ہیں اور سوموار اور جمعرات کو ریڈیو پروگرام کے مقررہ سے قبل وہ خاص طور پر صرف اپنے پروگرام کے لئے اپنے کام سے گھر واپس آتے ہیں۔جستجو ہو تو ر ہنمائی بھی اللہ تعالیٰ دیتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔بولیویا کے مبلغ غالب صاحب لکھتے ہیں ات کہ ولیم شاہین جو یہوواہ وٹنس فرقے کے ایک پادری تھے۔ان کا تعلق لبنان سے ہے اور پیدائشی طور پر عیسائی تھے۔گزشتہ تین سال سے بولیویا میں مقیم تھے۔خاکسار نے عیسائیت کے اس فرقے کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لئے ان سے میٹنگ طے کی۔جب ہماری پہلی میٹنگ ہوئی تو انہوں نے اپنے فرقے کے بارے میں بتانے کی بجائے مجھ سے اسلام احمدیت کے بارے میں سوال پوچھنے شروع کر دیئے۔چنانچہ اس میٹنگ میں جماعت کے عقائد پیش کئے گئے۔خاص طور پر حضرت عیسی کا تفصیل سے ذکر ہوا۔کہتے ہیں میں نے انہیں جمعہ میں شامل ہونے کی دعوت دی تو وہ جمعہ کے لئے باقاعدگی کے ساتھ آنا شروع ہو گئے اور ہر دفعہ جمعہ کے بعد ان سے تفصیلی بات چیت ہوتی رہی۔ولیم صاحب کو فکر تھی کہ اگر وہ جماعت میں داخل ہوئے تو ان کے والدین اور چرچ والے بھی مخالفت کریں گے اور اس طرح انہیں نئی نوکری ڈھونڈنی پڑے گی لیکن دوسری طرف حق کی تلاش کو بھی اہمیت دیتے تھے۔موصوف عربی سمجھ سکتے تھے۔چنانچہ انہوں نے جماعت کی ویب سائٹ سے عربی کتب کا مطالعہ شروع کر دیا۔اس مطالعہ کے بعد کہنے لگے کہ وہ بہت دیر سے حق کی تلاش میں تھے اور اب انہیں حق مل گیا ہے۔چنانچہ مخالفت اور روزگار کی پرواہ کئے بغیر اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک روز جمعہ کے بعد بیعت کر کے جماعت میں شامل ہو گئے۔پیغام کا لوگوں پر اثر پڑتا ہے چاہے وہ بیعت کریں نہ کریں۔کامران مبشر صاحب اس بارے میں آسٹریلیا سے لکھتے ہیں کہ ہم نے گھر گھر جا کر تبلیغ کرنے کا پروگرام بنایا۔ایک گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا تو اندر سے ایک آدمی غصہ سے کانپتا ہوا باہر نکلا۔ایسا لگ رہا تھا کہ شاید مجھ پر حملہ کر دے گا۔مربی صاحب کہتے ہیں اسی غصہ کی حالت میں وہ مجھے کہنے لگا کہ جب سے تم مسلمان لوگ ہمارے ملک میں آئے ہو ہمارے ملک کا امن تباہ ہو گیا ہے۔تم لوگ ہمارے ملک سے نکل جاؤ اور ہمارے ساتھ تم لوگ integrate نہیں ہو سکتے نہ ہو نا چاہتے ہو۔جب اس کی بات ختم ہو گئی تو میں نے اس سے کہا کہ آپ کی بات صحیح ہے بعض مسلمان شدت پسند ہیں جو اسلام کو غلط طور پر پیش کر رہے ہیں لیکن ہماری تعلیم تو یہ ہے کہ محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں۔جماعت احمد یہ تو جس ملک میں بھی جاتی ہے وہاں ہر طرح سے integrate ہوتی ہے۔ہمارے بچے بھی کھیلتے ہیں۔فٹبال کلبوں میں بھی ہیں۔میں یہاں نیا آیا ہوں۔لائبریری کا ممبر بن گیا ہوں۔بہر حال ان سے لمبی باتیں ہوئیں۔یہ باتیں سن کر وہی شخص جو پہلے غصہ میں