خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 487
خطبات مسرور جلد 15 487 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 06اکتوبر 2017 باوجود تبلیغی پروگرام میں شامل ہوئے۔پروگرام کے دوران ہی جب زیادہ کمزوری محسوس کی تو گھر گئے اور اپنی اہلیہ جو کہ نرس ہیں اُن سے ڈرپ لگوائی اور جب بہتری محسوس کی تو پھر بضد تہوئے کہ تبلیغی پروگرام میں شامل ہوں گا۔چنانچہ شرکت کی اور رات دیر تک تبلیغی پروگرام میں مصروف رہے۔تو یہ ان لوگوں کا تبلیغ کرنے کے بارے میں جوش اور جذبہ ہے جو نئے احمد کی ہو رہے ہیں۔کانگو برازاویل کے معلم سلسلہ ابراہیم صاحب لکھتے ہیں کہ ایک گاؤں کا ایک نمبر دار ہے وہ کہتا ہے کہ میرے داماد کا میرے ساتھ رویہ ٹھیک نہیں تھا اور روزانہ شام کو شراب پی کر گالی گلوچ کر تا تھا اور میرے ساتھ بد زبانی کرتا تھا۔لیکن میں نے دیکھا ہے کہ جب سے اس نے اسلام احمدیت کو قبول کیا ہے اس نے شراب پینا اور گالی گلوچ کر نابالکل چھوڑ دیا ہے اور میرے لئے یہ بڑی حیرت کی بات ہے۔یہ تبدیلیاں اللہ تعالیٰ ان میں پیدافرماتا ہے۔برکینا فاسو کے نو مبائع دوست سوری حمید و صاحب بیان کرتے ہیں کہ جب میں غیر احمدی تھا تو بہت سی مشکلات میں پھنسا ہو ا تھا۔میرے ہاں اولاد تو ہوتی لیکن مر جاتی۔پیروں فقیروں کے پاس جاتا تو کوئی کہتا کہ بکرے لاؤ۔کوئی کہتا مرنے بتوں کی جگہ پر ذبح کرو۔اس طرح ہی تمہاری مشکلات حل ہوں گی۔کہتے ہیں میں نے جب جماعت احمدیہ کا پیغام سنا تو بہت اچھا لگا اور اس جماعت میں شامل ہو گیا۔وہ پیسے جو میں مولویوں اور بتوں کی نظر کرتا تھا اس کو چندے میں ادا کر نا شروع کر دیا۔میں نے دیکھا کہ میری ساری مشکلات حل ہوتی گئیں۔خدا تعالیٰ نے مجھے زندہ اولاد سے بھی نوازا۔کچھ عرصہ کے بعد جب مولویوں نے دیکھا کہ یہ شخص اب ہمارے پاس نہیں آتا اور ان کو معلوم ہو گیا کہ یہ احمدی ہو گیا ہے تو اس پر مولوی کہنے لگے کہ تمہارے اپنے باپ دادا جس دین پر قائم تھے تم نے اس کو کیوں چھوڑ دیا ؟ کہتے ہیں کہ میں نے ان کو کہا کہ اب میں بہت خوش ہوں۔خدا نے مجھے زندگی والی اولاد بخشی ہے۔میں چندہ دیتا ہوں اور خدا مجھے دو گنا کر کے واپس کرتا ہے۔یہ سب جماعت احمدیہ کی برکت ہے۔خدا نے میرے گھر کے حالات بدل دیئے ہیں۔جو کام کرتا ہوں پورا ہو جاتا ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے ہی مجھے اس رستہ پر ڈالا ہے۔جو باپ دادا کا راستہ تھا وہ گمراہی کا راستہ تھا۔پھر ریڈیو کے ذریعہ بیعتیں ہوتی ہیں۔بین کے مبلغ لکھتے ہیں کہ میرے ریجن کے ایک گاؤں سے ایک عیسائی دوست سوئے جو رافن (Soe Joraphin) نے ایک روز ہمارے ریڈیو پروگرام کے دوران فون کر کے حضرت عیسی علیہ السلام کی آمد ثانی کے متعلق سوال کیا اور اپنے ہاں آنے کی دعوت بھی دی۔بعد ازاں جب ان سے ملاقات ہوئی اور ان کے سوالات کے جواب دیئے اور عقلی دلائل اور بائبل کے حوالے سے جواب دیئے گئے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کو شرح صدر ہو گیا اور انہوں نے اقرار کیا کہ جماعت احمدیہ کا مسلک درست ہے اور حضرت عیسی علیہ السلام صرف ایک نبی تھے اور ان کی آمد ثانی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صورت میں پوری