خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 486 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 486

خطبات مسرور جلد 15 486 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 06اکتوبر 2017 اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ امام بھی ستر افراد کے ساتھ بیعت کر کے جماعت میں داخل ہو گئے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے فضل کیا اور ہزاروں میل دور بیٹھے اس چھوٹے سے جزیرے میں خطبہ کے ذریعہ سے ہی تبلیغ کا یہ کام ہو گیا اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کا احسان ہے جو ہم پر ایم ٹی اے کے ذریعہ سے اس نے فرمایا ہوا ہے۔کتب کا غیر مسلم پر کیا اثر ہوتا ہے؟ کانگو برازاویل سے معلم لکھتے ہیں کہ ایک نو مبائع اوم بیا صاحب نے اپنی بیعت کا واقعہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ایک دن میں اپنے چھوٹے بھائی کے گھر گیا تو اس کے پاس فریج زبان میں ایک کتاب دیکھی جس کا عنوان حضرت عیسی علیہ السلام کی سچی کہانی تھا۔کہتے ہیں میں نے اس سے یہ کتاب پڑھنے کے لئے لی۔میں نے اپنے پادری سے اس کتاب کا ذکر کیا تو پادری نے کہا کہ ایسے بغیر سوچے سمجھے کوئی کتاب نہیں پڑھنی چاہئے۔ایمان ضائع ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔لیکن جب میں نے وہ کتاب پڑھی تو میری آنکھیں ہی کھل گئیں اور مجھے سمجھ آگئی کہ پادری لوگ ہم سے بہت کچھ چھپاتے ہیں۔میں نے دوبارہ کتاب پڑھی اور بائبل سے حوالے بھی چیک کئے۔میں نے اپنے بھائی سے رابطہ کیا جو پہلے ہی جماعت احمدیہ میں داخل ہو چکا تھا۔میں نے اس سے پوچھا کہ یہ کتاب تم نے کہاں سے لی ہے اور یہ کون لوگ ہیں۔اس نے مجھے بتایا کہ یہ جماعت احمدیہ کی لکھی ہوئی کتاب ہے اور کہتے ہیں کچھ دنوں تک میں نے جماعت احمدیہ کے مشن ہاؤس جانا ہے جہاں جرمنی میں جو جلسہ ہونے والا ہے وہاں وہ جلسہ سنیں گے تم بھی میرے ساتھ چلو۔خود دیکھ لینا کون لوگ ہیں۔اسلام کے بارے میں سوالات وہیں پوچھ لینا۔کہتے ہیں چنانچہ ہم مشن ہاؤس گئے وہاں جلسہ جرمنی کا ماحول دیکھا اور کہتے ہیں کہ آپ کے خطابات سنے اور ان کو سن کر میں بالکل بدل گیا۔کہتے ہیں کہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل سے میں نے جر منی جلسہ کے موقع پر ہی بیعت کر لی۔کہتے ہیں اب میں بہت خوش ہوں اور میں محسوس کر رہا ہوں کہ زندگی کا بھی کوئی مقصد ہے جو اب پورا ہوا۔بیعت کے بعد غیر معمولی تبدیلی بھی لوگوں میں ہوتی ہے۔ازبکستان کے ایک نو مبایع دوست ظہیر واحد دوچ صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی سورۃ فاتحہ کی تفسیر جاننے کے بعد میر اتو نماز پڑھنے کا طریق ہی تبدیل ہو گیا ہے۔اب مجھے نماز میں وہ کچھ ملتا ہے جو پہلے کبھی نہیں ملتا تھا۔خاص طور پر مجھے اس حدیث کی تشریح نے بہت فائدہ دیا ہے جو پہلے مجھے سمجھ نہیں آتی تھی اور جس میں احسان کا مطلب بتایا گیا ہے۔کو سودو کے مبلغ لکھتے ہیں کہ احمدی نو مبایعین اخلاص اور قربانی میں دن بدن آگے بڑھ رہے ہیں۔ایک دوست نذیر بالائے صاحب شہر کی بلدیہ میں ایک اہم شعبہ کے نگران ہیں لیکن قبول احمدیت کے بعد باوجود اپنی مصروفیت کے دن رات جماعت کی خدمت میں مصروف رہتے ہیں۔کوئی تبلیغی یاتربیتی پروگرام ہو تو اس کے لئے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔پڑوسی ملک میں وقف عارضی کرنے کے لئے بھی ہمیشہ تیار رہتے ہیں۔موصوف کے ذریعہ سے بہت سے نئے تبلیغی رابطے پیدا ہوئے ہیں۔ایک مرتبہ ایک تبلیغی پروگرام کا انعقاد کیا گیا اور شدید بیمار ہونے کے