خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 485 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 485

خطبات مسرور جلد 15 485 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 06اکتوبر 2017 مضبوطی کے ساتھ قائم رہے اور اپنے بچوں کو ساتھ لے کر جنازہ پڑھ کر اپنے بیٹے کو اپنے ہی مکان میں دفن کر دیا۔چنانچہ جب ان کا جماعت سے رابطہ بحال ہوا تو مل کر آبدیدہ ہو گئے اور مع فیملی تجدید بیعت کی۔جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے مرکز سے رابطہ کیوں نہیں کیا۔تو کہنے لگے کہ لوگوں نے ہمیں بتایا تھا کہ قادیانیوں کا جو مرکز لکھنو میں تھا وہ تو اجڑ گیا ہے۔ان کا مدرسہ بھی بند ہو گیا ہے۔کوئی نہیں رہا اور قادیان کا رابطہ ہمارے پاس تھا نہیں۔لیکن اس کے باوجود ایمان میں جو مضبوطی تھی اس پر وہ قائم رہے۔اللہ تعالیٰ نے ان کو ہدایت دینی تھی ہدایت پہ قائم رکھا۔جو کسی مقصد کے لئے احمدی ہوئے تھے اور بیعتیں کی تھیں وہ سارے پھر گئے اور جماعت چھوڑ دی۔آئیوری کوسٹ میں بھی جماعت کی وجہ سے ظلم کی ایک مثال ہے۔ایک نو مبائع بومباسیکو ( Bamba Sekou) صاحب نے بیعت کرنے کے بعد اپنے بھائیوں کو خط کے ذریعہ اپنے قبول احمدیت کی خبر دی۔ان کے بھائیوں نے جواب دیا کہ اگر تین دن کے اندر اندر وہ احمدیت سے باز نہ آئے تو اسلامی شریعت کے مطابق ان کا سر قلم کر دیا جائے گا۔اسی طرح کاروبار میں ان کے ساتھی جو کہ وہابیہ مسلک سے تعلق رکھتے تھے ان کو ان کا حصہ دے کر کاروباری شراکت سے علیحدہ ہو گئے۔لیکن موصوف نے کسی قسم کے نقصان یا مخالفت کی پرواہ نہیں کی اور مضبوطی سے احمدیت پر قائم رہے۔فرانس کے امیر صاحب کہتے ہیں کہ اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے اللہ تعالیٰ نے جو ایم ٹی اے کے ذریعہ سے دنیا سے رابطہ کی سہولت مہیا فرمائی ہے اور جس طرح میرے خطبے ہر جگہ جاتے ہیں وہ غیر بھی سنتے ہیں۔اس کے اثر کا ایک واقعہ امیر صاحب بیان کرتے ہیں کہ ایک دوست دانیال صاحب بیعت کر کے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے۔وہ بیان کرتے ہیں کہ بیعت سے پہلے وہ مایوٹے آئی لینڈ میں رہتے تھے جو کہ فرانس کا جزیرہ ہے۔وہاں مایوٹے میں وہ جس مسجد جاتے تھے اس کے امام اکثر ایم ٹی اے پر میرا خطبہ جمعہ سنتے تھے۔خطبہ میں میں نے حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کے بارے میں ذکر کیا تھا جس سے کہتے ہیں میں بہت متاثر ہوا۔مسجد کے امام نے ہمیں جماعت احمدیہ کا تعارف کروایا۔وہاں کا امام شریف تھا۔ذاتی غرض نہیں تھی۔کہتے ہیں اس نے ہمیں کہا کہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو سیدھا راستہ دکھائے۔ان باتوں کا کہتے ہیں مجھ پر بڑا اثر ہوا۔اور امام صاحب نے ہمیں جماعت کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنے کو کہا۔چنانچہ میں نے انٹرنیٹ پر حضرت عیسی علیہ السلام کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنی شروع کیں تو فریج زبان میں بعض جماعتی ویڈیوز سامنے آگئیں جو حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کے بارے میں تھیں۔اسی طرح حضرت عیسی کے بارہ میں جو خطبہ تھا اس کا یوٹیوب پر فریچ ترجمہ بھی مل گیا۔چنانچہ کہتے ہیں اس کے بعد میں نے بیعت کر لی۔امیر صاحب لکھتے ہیں اب موصوف نے فرانس کے مبلغ انچارج کا مایوٹے میں اس امام کے ساتھ رابطہ کروایا ہے چنانچہ اس امام کو فرانس سے جماعتی کتب ارسال کی گئی ہیں۔