خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 484
خطبات مسرور جلد 15 484 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 06اکتوبر 2017 سے نونو لاشیں نکلیں۔جب ہمیں اس واقعہ کا پتا چلا تو ہم زخمیوں سے ملنے ہسپتال گئے۔اس وقت مخالفین کے رشتہ دار شرم کے مارے ہم سے منہ چھپانے لگے۔اس حادثے کے بعد لکھیم پور شہر کی بڑی مسجد کے ایک مولوی نے ان مخالفین کو جو بچ گئے تھے اور عبد الستار صاحب کی فیملی کو مسجد میں بلایا۔مولوی صاحب نے مخالفین سے کہا کہ آپ لوگ ان احمدیوں سے معافی مانگیں اور ان کی مخالفت چھوڑ دیں۔آپ لوگوں نے جو ان سے قطع تعلق کیا ہوا ہے وہ بھی ختم کریں۔چنانچہ اس حادثے کے بعد مخالفت بالکل ٹھنڈی پڑ گئی۔کہتے ہیں کہ ہمارا جماعت سے رابطہ ٹوٹا ہوا تھا مگر دل سے احمدی ہی تھے۔چنانچہ اس رابطے کی بحالی پر بڑے خوش ہوئے اور ان سب نے تجدید بیعت کی۔جو لوگ ایک دفعہ احمد کی ہوتے ہیں اور حقیقت میں سمجھ کے احمدی ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ پھر ان کے ایمانوں میں مضبوطی بھی عطا فرماتا ہے۔کو سودو کے مبلغ لکھتے ہیں کہ ایک مشہور عالم شیفچیت کڑا سنچی ( Shefqet Kransiqui) صاحب جو لمبے عرصے سے ملک کے دارالحکومت کی سب سے بڑی مسجد کا ایک امام تھا۔وہاں کی یونیورسٹی کے شعبہ اسلامیات میں بطور پروفیسر پڑھاتا بھی تھا اور ملک میں کافی مقبول تھا۔اس نے کئی سال قبل ریڈیو وغیرہ پر پروگراموں کے دوران احمد یہ جماعت کے خلاف کافی اشتعال انگیز باتیں کی تھیں اور انٹرنیٹ وغیرہ پر بھی جماعت کے خلاف پروپیگنڈا کیا۔اللہ تعالیٰ نے اس کا بدلہ اس طرح سے لیا کہ پہلے تو اس کے کیریکٹر پر الزام لگنے کی وجہ سے اس کو یونیورسٹی سے معطل کر دیا گیا۔پھر پولیس نے اس کو دہشت گردی کی پشت پناہی اور بلیک منی (black money) کے الزام میں گرفتار کر لیا۔کئی دن حراست میں رکھا۔اس کو جامعہ مسجد کی امامت سے نکال دیا گیا۔تمام ذمہ داریاں اس سے واپس لے لی گئیں۔ملک کے اندر بعض دیگر امام بھی جماعت کے خلاف عوام کو مشتعل کرتے تھے دوران سال ان اماموں کو مذہبی منافرت پھیلانے اور معاشرے میں بدامنی پیدا کرنے کے الزام میں حراست میں لے لیا گیا۔کہتے ہیں کہ آج تک کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ملک کے سرکردہ علماء کو اس قدر ذلت اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑے اور اس وجہ سے پھر وہاں کے جو احمدی ہیں ان کو اللہ تعالیٰ نے ایمان میں مضبوطی عطا فرمائی۔نو مبایعین پر ظلم اور پھر بھی ایمان پر قائم رہنے کی ایک مثال تو پہلے میں نے انڈیا کی بیان کی۔اسی طرح ایک اور مثال یوپی کے ایک گاؤں کی ہے کہ وہاں سارے گاؤں نے بیعت کی تھی لیکن بعد میں شدید مخالفت کی وجہ سے پورا گاؤں پیچھے ہٹ گیا تھا۔لیکن ایک دوست محمد حنیف صاحب احمدیت پر قائم رہے۔مخالفین نے ان کی بہت مخالفت کی مگر انہوں نے اپنے ایمان کو بچائے رکھا۔اسی مخالفت کے دوران حنیف صاحب کا بیٹا وفات پا گیا۔مخالفین نے ان کے بیٹے کو قبرستان میں دفنائے جانے اور جنازہ پڑھنے سے منع کر دیا اور اس سے کہا کہ اگر تم احمدیت سے توبہ کرو گے تو تبھی ہم تمہارے بیٹے کا جنازہ پڑھیں گے اور قبرستان میں دفنانے کی اجازت دیں گے۔لیکن حنیف صاحب