خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 483 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 483

خطبات مسرور جلد 15 483 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 106اکتوبر 2017 برکینا فاسو کے ایک معلم سیندے کریم صاحب لکھتے ہیں۔تبلیغ کے لئے ہم ایک گاؤں گئے۔جب ہم وہاں پہنچے تو ہم نے وہاں تبلیغ کی اجازت چاہی۔گاؤں کے امام نے کہا کہ ہمارے پاس آپ کے مبلغ پہلے بھی آئے تھے اور ہم میں سے کافی لوگوں نے بیعت بھی کی تھی لیکن تمام گاؤں والوں نے بیعت نہیں کی تھی اس لئے آپ تبلیغ کریں۔ہو سکتا ہے کہ آپ کی تبلیغ سے پہلے جو رہ گئے تھے وہ بھی شامل ہو جائیں۔چنانچہ کافی دیر سوال و جواب ہوتے رہے۔آخر پر ان کے بڑے کہنے لگے کہ ہم احمدی تو ہو گئے تھے لیکن پھر بھی کچھ باتیں ابھی واضح نہیں تھیں۔لیکن آج میں نے خود دیکھ لیا ہے کہ اگر آج اسلام کی کوئی صحیح معنی میں خدمت کر رہا ہے تو وہ آپ لوگ ہیں کیونکہ آپ مستقل اس کام میں لگے ہوئے ہیں اور تھکتے نہیں۔پس ہم آپ کے ساتھ ہیں۔چنانچہ امام نے گاؤں کے لوگوں سے کہا کہ جن لوگوں نے پہلے بیعت نہیں کی تھی وہ اب کر لیں اور اس طرح گاؤں کے مزید تہتر افراد نے بیعت کر لی۔اب اللہ تعالی اگر ان لوگوں کے دل کھول رہا ہے اور ان کو صحیح اسلام کے قبول کرنے کی توفیق دے رہا ہے تو یہ ان پر اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔اس پر یہ کہنا کہ کیوں صرف وہیں کیوں ہو رہے ہیں ؟ اس لئے کہ ان کو دین کی فکر ہے۔اپنی فکر ہے وہ ساری ساری رات بیٹھ کر دینی مجالس سنتے ہیں۔یہاں کسی کو وقت نہیں کہ اتنا لمبا عرصہ بیٹھ کر دین کے لئے وقت دے اور دینی مجالس میں بیٹھے اور سوال جواب کرے۔ہندوستان کے نائب ناظر دعوت الی اللہ لکھتے ہیں کہ لکھیم پور شہر میں ایک دوست عبد الستار صاحب کے ساتھ رابطہ بحال ہو ا۔جب ان کے ساتھ ملاقات ہوئی تو وہ مل کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔انہوں نے بتایا کہ ہم لوگ کرن پور گاؤں کے رہنے والے تھے۔ہماری پچاس بیگھے زمین تھی۔اچھا کاروبار تھا۔ہم لوگ بارہ سال قبل بیعت کر کے جماعت میں شامل ہوئے تھے لیکن بیعت کے بعد ہماری اس قدر مخالفت ہوئی کہ مخالفین نے ہمارے گھر پر پتھراؤ کیا اور ہمیں ہمارے گھروں سے نکال دیا۔میرے بیٹے کو مار مار کر زخمی کر دیا۔میری اہلیہ کا ہاتھ توڑ دیا۔اس قدر مخالفت ہوئی کہ ہمیں مکان اور زمین اونے پونے فروخت کر کے وہاں سے نکلنا پڑا۔سارا کاروبار تباہ ہو گیا۔ہم وہاں سے لکھیم پور شہر میں آئے۔ایک چھوٹے سے مکان میں منتقل ہو گئے لیکن مخالفین نے ہمارا پیچھا نہ چھوڑا۔وہ یہاں بھی پہنچ گئے اور شہر کے مسلمانوں کو متنفر کر دیا۔پورے شہر میں کوئی ایک مسلمان بھی ہم سے بات نہ کرتا تھا۔آتے جاتے ہمیں تنگ کیا جاتا۔اس دوران ہمارا جماعت سے رابطہ بھی منقطع ہو گیا لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمیں جماعت احمدیہ کی صداقت کا ایک عظیم الشان نشان دکھایا کہ ہماری مخالفت میں پیش پیش رہنے والے بڑے مخالفین جو ایک بس میں سوار ہو کر کسی شادی پر جارہے تھے کہ ان کی بس ریلوے پھاٹک پر پھنس گئی اور ٹرین سے ٹکراگئی جس کے نتیجہ میں اٹھائیس لوگ موقع پر ہی ہلاک ہو گئے اور بیچنے والے بھی بُری طرح زخمی ہو گئے۔لاشوں کا اس قدر برا حال تھا کہ پہچانی ہی نہیں جاتی تھیں۔دُور دُور تک جسم کے ٹکڑے پھیلے ہوئے تھے۔مخالفین میں سے ایک ایک گھر