خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 482
خطبات مسرور جلد 15 482 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 06اکتوبر 2017 غیر احمدی لوگ اس میں شامل ہوئے۔لیکن سنی مولویوں میں سے کوئی بھی حاضر نہ ہوا۔چنانچہ گاؤں کے لوگوں کو علم ہو گیا کہ مولویوں کے پاس انتشار پھیلانے کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔اللہ تعالی مختلف ذریعوں سے ان لوگوں کی ہدایت کے سامان پیدا فرماتا ہے جو واقعی دین کی طرف رجحان رکھتے ہیں۔برکینا فاسو کے امیر صاحب لکھتے ہیں کہ ایک گاؤں نابیر (Nabiyir) میں تبلیغ کی گئی۔وہاں اللہ تعالیٰ کے فضل سے کافی تعداد میں بیعتیں حاصل ہوئیں۔وہاں ایک کچی مسجد میں ایک معلم صاحب کو تعینات کیا گیا۔با قاعدہ نماز جمعہ کا آغاز کیا گیا لیکن غیر احمدی مولوی نے فتنہ پردازی شروع کر دی اور عین نماز جمعہ کے وقت مسجد میں آکر لوگوں کو بھڑ کا یا تا احمدیت سے دُور کرنے کی کوشش کرے۔لیکن جماعت میں مسلسل اضافہ ہو تا رہا۔آخر مولوی سے کچھ نہ بن پایا تو اس نے جماعت احمدیہ کی مسجد کے سامنے اپنی ایک مسجد بنائی اور اعلان کیا کہ احمد یہ مسجد اب صرف صفیں رکھنے والا سٹور بن جائے گا اور وہاں کوئی نمازی نہیں آئے گا۔لیکن ہوا اس کے الٹ۔وہاں اس کی مسجد میں تو صرف گھر کے رشتہ دار ہی نماز پڑھتے ہیں اور ہماری مسجد میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے نمازیوں میں اضافہ ہوناشروع ہوا اور یہ لکھتے ہیں کہ چھوٹی سی جگہ پہ نماز جمعہ پر حاضری دوسو سے اڑھائی سو تک ہوتی ہے۔دعائیں قبول کرنے کے نظارے اللہ تعالیٰ کس طرح دکھاتا ہے۔مبلغ سلسلہ بین انصر صاحب لکھتے ہیں کہ ایک گاؤں آسیوں (Assion) میں دو سو بیعتیں ہوئی تھیں۔اب اس گاؤں میں ہر جمعہ اور منگل کو تربیتی کلاس ہوتی ہے۔وہاں کے صدر صاحب کی بیٹی جو کسی دوسرے گاؤں میں رہتی تھی سخت بیمار ہو گئی اور بیماری کی وجہ سے جسم بالکل بے جان ہو گیا۔کہتے ہیں میں جب ان کے گاؤں گیا تو صدر صاحب نے کہا کہ دعا کریں اور خلیفہ وقت کو بھی دعا کے لئے لکھیں۔تو کہتے ہیں کہ انہوں نے مجھے بھی یہاں خط لکھا۔کہتے ہیں جب اگلے دن دوبارہ وہاں گیا تو لوگوں نے بتایا کہ اس لڑکی نے بولنا اور حرکت کرنا بند کر دیا تھا۔اس لڑکی کو ہسپتال بھی لے کر گئے تھے لیکن کسی علاج سے کوئی فائدہ نہیں ہو رہا تھا۔پھر مایوس ہو کر اس کو گھر واپس لے آئے۔ایک مولوی کو بلایا جس نے لڑکی پر دم کیا۔اس کے بدلے اس نے چالیس ہزار فرانک اور ایک بکرالیا لیکن لڑکی کو آرام نہ آیا۔پھر ایک اور مولوی کو بلایا اس نے بھی اتنی بڑی رقم لی لیکن کوئی فرق نہیں پڑا۔کہتے ہیں مولویوں سے ہم مایوس ہو گئے تھے۔ہم نے سوچا کہ اس نے مر تو جانا ہی ہے۔پھر لڑکی کو اس کے باپ کے گھر چھوڑ آتے ہیں۔چنانچہ جب لڑکی کو یہاں لے کر آئے تو لڑکی کے والد نے وہاں بھی جماعت کو تحریک کی۔مجھے بھی دعا کے لئے خط لکھا اور کہتے ہیں کہ ایک دن کے بعد ہی اس لڑکی نے حرکت شروع کر دی اور اگلے روز شام تک بیماری مکمل طور پر اس کے جسم سے نکل گئی اور کوئی شخص گمان نہیں کرتا تھا کہ یہ زندہ بچے گی۔مگر اب اسے دیکھ کر کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ لڑکی کبھی بیمار بھی ہوئی تھی۔تو یہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کی دلیل ہے۔