خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 481
خطبات مسرور جلد 15 481 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 06اکتوبر 2017 پھر نئی جماعتوں کے قیام کے بعض واقعات ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کس طرح جماعتیں قائم کرتا ہے۔عبد القدوس صاحب بین کے مبلغ ہیں وہ لکھتے ہیں کہ معلم زکریا ایک گاؤں میں تبلیغ کے لئے گئے۔وہاں ایک دوست نے کہا کہ اس وقت لوگ کام کاج کے لئے گاؤں سے باہر ہیں۔آپ جمعہ کے دن آئیں تو لوگ یہاں موجود ہوں گے۔چنانچہ جب معلم صاحب جمعہ کے دن دوبارہ گئے تو معلم صاحب نے مسجد میں داخل ہونے کے بعد دونوافل ادا کئے اور امام صاحب اور اس گاؤں کی کمیٹی کی اجازت سے تبلیغ شروع کی۔معلم نے سورۃ فاتحہ کی تفسیر اور امام مہدی کی آمد کے متعلق تقریر کی اور لوگ تقریر کے دوران اللہ اکبر کے نعرے بلند کرتے رہے۔جب تبلیغ ختم ہوئی تو ان کی مسجد کمیٹی کے صدر صاحب کہنے لگے کہ میں مسلمان پید اہو اہوں مگر آج تک میں نے سورۃ فاتحہ کی اس طرح کی تفسیر نہیں سنی۔اگر جماعت احمدیہ کی یہی تعلیم ہے تو پھر میں سب کو مبارکباد دیتا ہوں ہم اس جماعت کو قبول کرتے ہیں۔چنانچہ امام سمیت اس گاؤں کی مسلم تنظیم کے تمام افراد نے جماعت احمدیہ کو قبول کر لیا اور اس طرح ایک نئی جماعت کا قیام عمل میں آیا۔کہتے ہیں کہ وہاں کے گاؤں کے مولوی نے شدید رد عمل دکھایا۔جب ہمارے معلم گھر واپس آئے تو مولوی نے ان کو فون کر کے کہا کہ آئندہ سے اس گاؤں اور مسجد میں نہ آنا۔کچھ عرصہ بعد جب خدام الاحمدیہ بین کے نیشنل اجتماع کے سلسلہ میں ہمارے معلم دوبارہ وہاں گئے اور خدام سے شمولیت کی درخواست کی تو اس مولوی نے پھر سے ان کو روکا اور اپنے ساتھ خدام کو لے جانے سے منع کیا مگر نواحمدی خدام نے مولوی کورڈ کر دیا اور سب نے اجتماع میں شمولیت کی۔تو اس طرح اللہ تعالیٰ مخالف مولویوں کو رُسوا کرتا ہے اور نئی جماعتیں بھی قائم کر رہا ہے۔نئی جماعتوں کے قیام کے سلسلہ میں ہی ایک اور واقعہ ہے جو ار و شار یجن کا ہے۔مربی صاحب لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک نئے علاقے میں احمدیت کا نفوذ ہوا ہے۔سامے(Same)ڈسٹرکٹ کے ایک گاؤں کسوانی (Kisiwani) میں پہلے کوئی احمدی نہ تھا۔یہاں بار بار دورے کرنے کی توفیق ملی۔کثرت سے پمفلٹ تقسیم کئے گئے۔اسی طرح جماعتی اخبارات اور کتب بھی اس گاؤں میں تقسیم کی گئیں جس کے نتیجہ میں اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے نہ صرف بیعتیں ہونا شروع ہو گئی ہیں بلکہ با قاعدہ جماعت کا قیام ہو چکا ہے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے یہاں مسجد کے لئے پلاٹ خریدا جارہا ہے اور مقامی افراد جماعت مسجد کی تعمیر کے لئے خود اینٹیں تیار کر رہے ہیں۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ دوسرے مسلمانوں کی طرف سے مخالفت کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے۔مخالفین جماعت کے خلاف انتشار پھیلانے اور بیہودگی کرنے لگ گئے ہیں۔کہتے ہیں ہم نے انتظامیہ سے اجازت لے کر گاؤں میں مناظرہ کا انتظام کیا۔تمام گاؤں میں اعلان کروایا اور سنی مولوی صاحبان کو دعوت دی کہ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ وہ سچے ہیں تو آئیں اور سب کے سامنے بات کر لیتے ہیں۔چنانچہ طے شدہ پروگرام کے مطابق مناظرہ منعقد ہوا اور بہت سے