خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 478
خطبات مسرور جلد 15 478 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 06اکتوبر 2017 ایک تو اپنے تکبر کی وجہ سے ، دوسرے دنیاوی کاموں میں ڈوبے ہوئے ہونے کی وجہ سے فرصت ہی نہیں ہوتی کہ وہ دین کی طرف توجہ دیں۔اور پھر یورپ کی جو اکثریت ہے وہ تو دہر یہ ہو چکی ہے یا مغربی ممالک کی، ترقی یافتہ ممالک کی جو اکثریت ہے یہ سب دہر یہ ہو چکے ہیں۔جب ان کو اللہ تعالیٰ کی پرواہ نہیں تو پھر خدا تعالیٰ کو بھی ان کی کیا پر واہ ہے کہ ان کی رہنمائی کرے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ان دنیا داروں کا نقشہ کھینچتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : "سورۃ عصر میں اللہ تعالیٰ نے کفار اور مومنوں کی زندگی کے نمونے بتائے ہیں۔کفار کی زندگی بالکل چوپاؤں کی سی زندگی ہوتی ہے۔" جانوروں کی زندگی ہے " جن کو کھانے اور پینے اور شہوانی جذبات کے سوا اور کوئی کام نہیں ہوتا۔يَأْكُلُونَ كَمَا تَأْكُلُ الْأَنْعَامُ (محمد: 13) " جانوروں کی طرح بس کھانا پینا ان کا کام ہے۔آپ فرماتے ہیں " مگر دیکھو اگر ایک بیل چارہ تو کھالے لیکن ہل چلانے کے وقت بیٹھ جائے۔"زمینداروں میں پرانے زمانے میں رواج تھا کہ ہل چلانے کے لئے ، زمین کاشت کرنے کے لئے ، بیلوں کو استعمال کرتے تھے۔یہاں بھی پرانے زمانے میں گھوڑے استعمال ہوتے تھے۔کہ ہل چلانے کے وقت وہ بیٹھ جائے۔کام نہ کرے۔اس کا صرف کھانے کا کام ہو۔آپ فرماتے ہیں " اس کا نتیجہ کیا ہو گا۔یہی ہو گا کہ زمیندار اُسے بوچڑ خانے میں جا کر بیچ دے گا۔" ذبح کرنے والے کو ، قصائی کو دے دے گا۔آپ فرماتے ہیں کہ " اسی طرح ان لوگوں کی نسبت ( جو خدا تعالیٰ کے احکام کی پیروی یا پر واہ نہیں کرتے اور اپنی زندگی فسق و فجور میں گزارتے ہیں) فرماتا ہے قُلْ مَا يَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّي لَوْلا دُعَاؤُكُمْ (الفرقان : 78) یعنی میرا رب تمہاری کیا پرواہ کرتا ہے اگر تم اس کی عبادت نہ کرو۔" (ملفوظات جلد 1 صفحہ 181) پس اللہ تعالی انہی کی پر واہ کرتا ہے جو اس کی طرف جھکتے ہیں اور ہدایت طلب کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس سلسلہ میں مزید فرماتے ہیں کہ : " صدق بڑی چیز ہے۔اس کے بغیر عمل صالحہ کی تکمیل نہیں ہوتی۔خدا تعالیٰ اپنی سنت نہیں چھوڑتا اور انسان اپنا طریق نہیں چھوڑنا چاہتا۔ایسا بگڑا ہوا جو ہے " اس لئے فرمایا ہے وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنا۔(العنکبوت:70) خدا تعالیٰ میں ہو کر جو مجاہدہ کرتا ہے اس پر اللہ تعالیٰ اپنی راہیں کھول دیتا ہے۔" (ملفوظات جلد 3 صفحہ 305-306) پس جو کوشش کرتے ہیں۔اس فکر میں رہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے صحیح دین کی تلاش کریں، اسے پانے کی کوشش کریں۔وہ پھر ہدایت بھی پاتے ہیں۔ایمان میں بھی بڑھتے ہیں۔مزید ترقی بھی کرتے چلے جاتے ہیں۔بعض لوگوں پر اللہ تعالیٰ ان کی بعض نیکیوں کی وجہ سے فضل فرماتا ہے اور ان کو راستہ دکھاتا ہے۔