خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 477 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 477

خطبات مسرور جلد 15 477 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 06 اکتوبر 2017 نہیں یا بہت کم سوچتے ہیں۔یہ باتیں جو نئے آنے والے بیان کرتے ہیں یا ایسے واقعات جو کسی رنگ میں روحانی ترقی کا باعث ہوتے ہیں یہ سن کر ایسے لوگ اعتراض کے رنگ میں یہ باتیں کر جاتے ہیں کہ یہ واقعات جو بیعتوں اور ایمان میں ترقی وغیرہ کے ہیں یہ صرف افریقہ یا عرب یا ایشیا کے ممالک کے رہنے والوں کے ساتھ کیوں ہیں؟ یورپ میں رہنے والوں کے ایسے واقعات کیوں نہیں ہیں ؟ ان کو کیوں خوابوں کے ذریعہ سے رہنمائی نہیں ملتی ؟ ان کو کیوں دینی کتب پڑھ کے رہنمائی نہیں ملتی یا توجہ نہیں پیدا ہوتی؟ ان کے روحانی تجربات کیوں نہیں ہیں ؟ پہلی بات تو یہ ہے کہ یورپ میں رہنے والے جو دین کی طرف توجہ کرنے والے ہیں ان کو بھی اللہ تعالیٰ نشان دکھاتا ہے۔ان کے ایمان میں ترقی کے اللہ تعالیٰ اپنی جناب سے سامان پیدا فرماتا ہے۔یہاں برطانیہ میں بھی بہت سے نو مبایع ہیں یا یہاں کے مقامی باشندے ہیں جن کو بیعت کئے عرصہ ہو گیا ہے اور ہر روز ان کے ایمان ترقی کر رہے ہیں۔جو نو مبایعین ہیں یا کچھ عرصہ سے احمدیت میں شامل ہیں وہ ایسے تجربات سے گزرتے ہیں جو حیرت انگیز ہیں اور جو انہیں اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھی یقین اور ایمان میں بڑھنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔جماعت کی سچائی بھی ان پر کھلتی چلی جاتی ہے اور خلافت سے اخلاص و وفا کے تعلق میں بھی وہ لوگ بڑھ رہے ہیں۔ان میں مرد بھی ہیں عورتیں بھی ہیں۔لجنہ ، خدام، انصار کے اجتماعات میں یہ لوگ اپنے واقعات خود بیان کرتے ہیں۔ایم ٹی اے پر بھی بعض لوگوں نے بیان کئے جو بڑے ایمان افروز ہوتے ہیں۔بہر حال مغربی ممالک میں رہنے والے ان لوگوں کو بھی اللہ تعالی نشان دکھاتا ہے جو دین کی طرف توجہ کرنے والے ہیں۔احمدیت کی سچائی ان پر ظاہر کرتا ہے۔پھر ایک ایسا طبقہ بھی ہے جو گو احمدیت کو قبول تو نہیں کرتا لیکن اسلام کی بڑائی اور برتری احمدیت کے ذریعہ ان پر ظاہر ہوتی ہے اور ایسے بہت سے واقعات ہیں جو میں اپنے دوروں کے بعد یا جلسوں کے بعد بیان کرتارہتا ہوں۔لیکن اہم بات جو یاد رکھنے والی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے ہدایت دیتا ہے جو اس کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف جاتا ہے۔اگر ایک انسان دنیا داری میں پڑا ہوا ہے اور خدا تعالیٰ کا خانہ ہی خالی ہے، اس کو دین سے اور خدا سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے، جو خود اپنی عاقبت برباد کرنے پر تلا ہوا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ بھی ایسے لوگوں کی پرواہ نہیں کرتا اور وہ رہنمائی اور ہدایت سے محروم رہ جاتے ہیں۔پھر یہ بھی ہے کہ انبیاء کی تاریخ ہمیں یہی بتاتی ہے کہ دین کی طرف توجہ دینے والے اور انہیں قبول کرنے والے عموماً غریب اور کمزور لوگ ہی ہوتے ہیں۔عاجزوں اور مسکینوں میں ہی عموماً اللہ تعالیٰ کی طرف جانے کی تڑپ اور اللہ تعالیٰ کا خوف زیادہ ہوتا ہے۔دنیا دار اور طاقت والے یہی کہتے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان بھی فرمایا ہے کہ تمہاری حیثیت ہی کیا ہے ؟ تمہارے ماننے والے آراذِلُنَا بَادِيَ الرَّأْي (هود: 28) ہیں۔یعنی ہمیں دیکھنے میں وہ ذلیل ترین لوگ ہی نظر آتے ہیں۔پس دنیا دار تو تکبر کے مارے ہوئے ہوتے ہیں۔ان کو