خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 476
خطبات مسرور جلد 15 476 40 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 06اکتوبر 2017 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 06/ اکتوبر 2017ء بمطابق 06ر اخاء1396 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، لندن، یوکے تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں وقتا فوقتاً ایسے ایمان افروز واقعات بیان کرتا رہتا ہوں جو لوگوں کے اپنے احمدیت قبول کرنے یا ان کے احمدیت قبول کرنے کے بعد کے روحانی اور غیر معمولی تجربات یا جماعت پر اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کے نتیجہ میں افراد جماعت کے ایمان میں ترقی اور مضبوطی وغیرہ پر مشتمل ہوتے ہیں۔بہت سے لوگ مجھے لکھتے ہیں یا اظہار خیال کرتے ہیں کہ ایسے واقعات سناتے رہا کریں کیونکہ یہ واقعات دلچسپ ہونے کی وجہ سے ہمارے بچوں کی بھی توجہ کھینچتے ہیں۔نوجوانوں کی دینی اور روحانی حالت میں بہتری کا باعث بنتے ہیں اور خود ہماری حالتوں میں ترقی کا باعث بنتے ہیں اور ہمیں ہماری اپنی حالتوں کی بہتری کی طرف توجہ دلانے کا باعث بنتے ہیں۔بعض پیدائشی احمدی لکھتے ہیں کہ نئے آنے والوں کی یہ ایمانی حالت اور اللہ تعالیٰ سے جو اُن کا تعلق ہے، ہمیں شرمندہ کر رہا ہو تا ہے اور توجہ دلا رہا ہوتا ہے کہ ہم بھی ایمان میں بڑھنے کی کوشش کریں۔اسی طرح بعض نو مبایعین بھی اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ ان واقعات سے ہمارے ایمانوں میں اضافہ ہوتا ہے۔لیکن اس کے ساتھ ہی ان مغربی ممالک میں رہنے والے بعض ایسے لوگ بھی ہیں یا ایسے لوگ جو اپنے آپ کو بڑا پڑھا لکھا سمجھتے ہیں، ترقی یافتہ سمجھتے ہیں، یہ لوگ آئے تو پاکستان سے ہیں لیکن دنیا نے ان کو اس قدر اپنے اندر جذب کر لیا ہے یا وہ دنیا میں اس قدر پڑ گئے ہیں اور اس میں جذب ہو گئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف ان کی توجہ ہی نہیں رہتی یا ویسی توجہ نہیں جیسی توجہ رکھنا ایک احمدی کا فرض بنتا ہے اور جو اللہ تعالیٰ کا حق بھی ہے اور جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ماننے اور آپ کی بیعت میں آنے والے پر فرض ہے۔وہ اللہ تعالیٰ اور اس کی قائم کردہ جماعت کے حق ادا کرنے کی طرف اوّل تو توجہ نہیں دیتے اور اگر کچھ توجہ ہے بھی تو وہ اتنی تھوڑی کہ نہ ہونے کے برابر ہے۔دینی فرائض ادا کرنے سے غافل ہیں۔یہ لوگ دینی حالت کی بہتری کے بارے میں سوچتے