خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 474 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 474

خطبات مسرور جلد 15 474 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 ستمبر 2017 اور معراج پر پہنچانے والی نماز وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑ ا ہونے والے کے دل کو پگھلا دے۔پھر فرائض نمازوں کے ساتھ تہجد کی تاکید بھی آپ نے فرمائی اور انصار اللہ کو تو خاص طور پر اس کا بھی التزام کرنا چاہئے۔آپ فرماتے ہیں: " اس زندگی کے گل انفاس اگر دنیاوی کاموں میں گزر گئے تو آخرت کے لئے کیا ذخیرہ کیا۔" اگر ساری سانسیں اور ساری عمر دنیاوی کاموں کے لئے گزار دی تو آخرت کے لئے کیا ذخیرہ کیا فرمایا کہ " تہجد میں خاص کر اٹھو اور ذوق اور شوق سے ادا کرو۔درمیانی نمازوں میں یہ باعث ملازمت کے ابتلا آجاتا ہے۔" یعنی آگے پیچھے بھی ہو جاتی ہیں۔بعض دفعہ ایسا ابتلا بھی آجاتا ہے کہ قضاء بھی ہو جاتی ہیں۔فرمایا کہ " رازق اللہ تعالیٰ ہے۔نماز اپنے وقت پر ادا کرنی چاہئے۔ظہر و عصر کبھی کبھی جمع ہو سکتی ہے۔اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ ضعیف لوگ ہوں گے اس لئے یہ گنجائش رکھ دی۔مگر یہ گنجائش تین نمازوں کے جمع کرنے میں نہیں ہو سکتی۔جبکہ ملازمت میں اور دوسرے کئی امور میں لوگ سزا پاتے ہیں اور ( مورد عتاب حکام ہوتے ہیں) تو اگر اللہ تعالیٰ کے لئے تکلیف اٹھاویں تو کیا خوب ہے۔" (ملفوظات جلد 1 صفحہ 6) اگر دنیاوی کاموں میں بھی تکلیفیں اٹھارہے ہوتے ہیں، اگر نماز کے لئے ، فرض پورا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کے احکام پر چلنے کے لئے تھوڑی سی تکلیف اٹھا لو تو کیا حرج ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ " یہ اللہ تعالیٰ کا کمال فضل ہے کہ اس نے کامل اور مکمل عقائد کی راہ ہم کو اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ہدوں مشقت و محنت کے دکھائی ہے۔" بغیر کسی مشقت اور محنت کے ہمیں راستہ دکھا دیا۔وہ راہ جو آپ لوگوں کو اس زمانہ میں دکھائی گئی ہے بہت سے عالم ابھی تک اس سے محروم ہیں۔" احمدیوں کو اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود کو ماننے کی وجہ سے وہ رستہ دکھا دیا۔" پس خدا تعالی کے اس فضل اور نعمت کا شکر کرو اور وہ شکر یہی ہے کہ بچے دل سے ان اعمال صالحہ کو بجالاؤ جو عقائد صحیحہ کے بعد دوسرے حصہ میں آتے ہیں اور اپنی عملی حالت سے مدد لے کر دعامانگو کہ وہ ان عقائد صحیحہ پر ثابت قدم رکھے اور اعمال صالحہ کی توفیق بخشے۔حصہ عبادات میں صوم صلوۃ وزکوۃ وغیرہ امور شامل ہیں۔اب خیال کرو کہ مثلاً نماز ہی ہے یہ دنیا میں آئی ہے لیکن دنیا سے نہیں آئی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قُرَّةٌ عَيْنِي فِي الصَّلوة " (ملفوظات جلد 1 صفحہ 149-150) پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس بات کی وضاحت فرماتے ہوئے کہ حقیقی توحید کس طرح پوری ہوتی ہے فرمایا: " تو حید تب ہی پوری ہوتی ہے کہ گل مرادوں کا معطی اور تمام امراض کا چارہ اور مدار وہی ذاتِ واحد ہو۔لا إله إلا الله کے معنی یہی ہیں۔صوفیوں نے اس میں الہ کے لفظ سے محبوب، مقصود، معبود مراد لی ہے۔" فرمایا