خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 473
خطبات مسرور جلد 15 473 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 ستمبر 2017 فرمایا ہے۔یہ ان نمازیوں کے حق میں ہے جو نماز کی حقیقت سے اور اس کے مطالب سے بے خبر ہیں۔صحابہ تو خود عربی زبان رکھتے تھے اور اس کی حقیقت کو خوب سمجھتے تھے مگر ہمارے واسطے یہ ضروری ہے کہ اس کے معانی سمجھیں اور اپنی نماز میں اس طرح حلاوت پیدا کریں۔مگر ان لوگوں نے تو ایسا سمجھ لیا ہے جیسے کہ دوسرا نبی آگیا ہے اور اس نے گویا نماز کو منسوخ ہی کر دیا ہے۔" آپ کے خلاف جو لوگ باتیں کرتے ہیں ان کے بارے میں آپ فرمار ہے ہیں جب میں یہ کہتا ہوں کہ اپنی زبان میں دعائیں کرو تو کہتے ہیں کہ نئی شریعت لے آئے۔فرمایا " دیکھو خدا تعالیٰ کا اس میں فائدہ نہیں بلکہ خود انسان ہی کا اس میں بھلا ہے کہ اُس کو خدا تعالیٰ کی حضوری کا موقع دیا جاتا ہے اور عرض معروض کرنے کی عزت عطا کی جاتی ہے جس سے یہ بہت سی مشکلات سے نجات پاسکتا ہے۔میں حیران ہوں کہ وہ لوگ کیونکر زندگی بسر کرتے ہیں جن کا دن بھی گزر جاتا ہے اور رات بھی گزر جاتی ہے مگر وہ نہیں جانتے کہ ان کا کوئی خدا بھی ہے۔یاد رکھو کہ ایسا انسان آج بھی ہلاک ہوا اور کل بھی۔" فرمایا کہ " میں ایک ضروری نصیحت کرتا ہوں کاش لوگوں کے دل میں پڑ جاوے۔دیکھو عمر گزری جارہی ہے غفلت کو چھوڑ دو اور تضرع اختیار کرو۔اکیلے ہو ہو کر خدا تعالیٰ سے دعا کرو کہ خدا ایمان کو سلامت رکھے اور تم پر وہ راضی اور خوش ہو جائے۔" ( ملفوظات جلد 10 صفحہ 411 تا 413) ایک موقع پر نصیحت کرتے ہوئے کہ حقیقی نماز کیا چیز ہے؟ آپ فرماتے ہیں کہ : " وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنكبوت : 70) پوری کوشش سے اس کی راہ میں لگے رہو منزلِ مقصود تک پہنچ جاؤ گے۔" کوشش کرو جہاد کرو۔فرمایا کہ توبہ و استغفار وصول الی اللہ کا ذریعہ ہے۔اس طرف توجہ دینی چاہئے۔اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے اور جو لوگ ہمارے رستے میں کوشش کرتے ہیں ان کو ہم پھر صحیح رستوں کی طرف رہنمائی بھی کر دیتے ہیں۔فرمایا کہ " اللہ تعالیٰ کو کسی سے بخل نہیں۔آخر انہیں مسلمانوں میں سے وہ تھے جو قطب اور ابدال اور غوث ہوئے۔اب بھی اُس کی رحمت کا دروازہ بند نہیں۔قلب سلیم پیدا کرو۔نماز سنوار کر پڑھو۔دعائیں کرتے رہو۔ہماری تعلیم پر چلو۔ہم بھی دعا کریں گے۔یاد رکھو ہمارا طریق بعینہ وہی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کا تھا۔آجکل فقراء نے کئی بدعتیں نکال لی ہیں۔یہ چلے اور در دو ظائف جو انہوں نے رائج کرلئے ہیں ہمیں ناپسند ہیں۔" بہت سارے لوگ کہتے ہیں کہ بتائیں فلاں کیا دعا کریں۔خاص دعا کیا ہے۔خاص کوشش کیا کرنی چاہئے۔اصل چیز نماز ہے۔نماز کی طرف ہر احمدی کی پوری توجہ ہونی چاہئے۔فرمایا کہ اصل طریق اسلام قرآن مجید کو تدبر سے پڑھنا اور جو کچھ اس میں ہے اس پر عمل کرنا اور نماز توجہ کے ساتھ پڑھنا اور دعائیں توجہ اور انابت الی اللہ سے کرتے رہنا۔بس نماز ہی ایسی چیز ہے جو معراج کے مراتب تک پہنچا دیتی ہے۔یہ ہے تو سب کچھ ہے۔" ( ملفوظات جلد 10 صفحه 107)