خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 472
خطبات مسرور جلد 15 472 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 29 ستمبر 2017 " اخلاص جیسی اور کوئی تلوار دلوں کو فتح کرنے والی نہیں۔ایسے ہی امور سے وہ لوگ دنیا پر غالب آگئے تھے۔صرف زبانی باتوں سے کچھ ہو نہیں سکتا۔" فرمایا کہ " اب نہ پیشانی میں نور اور نہ روحانیت ہے اور نہ معرفت کا کوئی حصہ۔" نماز کی معرفت نہیں ہے۔نماز پڑھنے کی وجہ سے جو نور ملتا ہے وہ نہیں ہے۔نمازیں بھی بوجھ سمجھی جاتی ہیں فرمایا کہ " خدا تعالیٰ ظالم نہیں ہے۔اصل بات ہی یہی ہے کہ ان کے دلوں میں اخلاص نہیں۔صرف ظاہری اعمال سے جو رسم اور عادت کے رنگ میں کئے جاتے ہیں کچھ نہیں بنتا۔" اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جماعت میں بہت سارے ایسے ہیں جو خالص ہو کر نمازیں پڑھنے والے ہیں۔یہ عمومی حالت آپ اُس زمانے کی بیان فرما ر ہے ہیں۔پس یہ ہمارے لئے بھی سبق ہے اور ایک تنبیہ بھی ہے۔ان باتوں کا خیال رکھیں۔فرمایا " اس سے کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ میں نماز کی تحقیر کر تاہوں۔وہ نماز جس کا ذکر قرآن میں ہے اور وہ معراج ہے۔بھلا ان نمازیوں سے کوئی پوچھے تو سہی کہ ان کو سورہ فاتحہ کے معنی بھی آتے ہیں۔پچاس پچاس برس کے نمازی ملیں گے مگر نماز کا مطلب اور حقیقت پوچھو تو اکثر بے خبر ہوں گے حالانکہ تمام دنیوی علوم ان علوم کے سامنے بیچ ہیں۔بایں دنیوی علوم کے واسطے تو جان توڑ محنت اور کوشش کی جاتی ہے اور اس طرف سے ایسی بے التفاتی ہے کہ اسے جنتر منتر کی طرح پڑھ جاتے ہیں۔"اکثر مسلمانوں میں سے یہی حالت دیکھیں گے فرمایا " میں تو یہاں تک بھی کہتا ہوں کہ اس بات سے مت رکو کہ نماز میں اپنی زبان میں دعائیں کرو۔بیشک اردو میں، پنجابی میں، انگریزی میں، جو جس کی زبان ہو اُسی میں دعا کر لے۔مگر ہاں یہ ضروری ہے کہ خدا تعالیٰ کے کلام کو اسی طرح پڑھو۔اس میں اپنی طرف سے کچھ دخل مت دو۔اس کو اسی طرح پڑھو اور معنی سمجھنے کی کوشش کرو۔اسی طرح ماثورہ دعاؤں کا بھی اسی زبان میں التزام رکھو۔قرآن اور ماثورہ دعاؤں کے بعد جو چاہو خدا تعالیٰ سے مانگو اور جس زبان میں چاہو مانگو۔وہ سب زبا نہیں جانتا ہے۔سنتا ہے۔قبول کرتا ہے۔" فرمایا " اگر تم اپنی نماز کو با حلاوت اور پر ذوق بنانا چاہتے ہو تو ضروری ہے کہ اپنی زبان میں کچھ نہ کچھ دعائیں کرو۔مگر اکثر یہی دیکھا گیا ہے کہ نمازیں تو ٹکریں مار کر پوری کر لی جاتی ہیں۔پھر لگتے ہیں دعائیں کرنے۔" اکثر مسلمان ملکوں میں غیر احمدیوں میں یہی رواج ہے کہ نماز جلدی جلدی پڑھ لی۔اس کے بعد ہاتھ اٹھا کے دعا کرنے لگ گئے۔فرمایا یہ دعائیں کرنے لگ جاتے ہیں۔فرمایا کہ اس سے ظاہر تو یہی لگتا ہے کہ " نماز تو ایک ناحق کا ٹیکس ہوتا ہے۔اگر کچھ اخلاص ہوتا ہے تو نماز کے بعد میں ہوتا ہے۔یہ نہیں سمجھتے کہ نماز خود دعا کا نام ہے جو بڑے عجز، انکسار ، خلوص اور اضطراب سے مانگی جاتی ہے۔بڑے بڑے عظیم الشان کاموں کی کنجی صرف دعا ہی ہے۔خدا تعالیٰ کے فضل کے دروازے کھولنے کا پہلا مرحلہ دعا ہی ہے۔" فرمایا کہ " نماز کو رسم اور عادت کے رنگ میں پڑھنا مفید نہیں بلکہ ایسے نمازیوں پر تو خود خدا تعالیٰ نے لعنت اور ویل بھیجا ہے چہ جائیکہ ان کی نماز کو قبولیت کا شرف حاصل ہو۔وَيْلٌ لِلْمُصَلِّين (الماعون: 5)خود خدا تعالیٰ نے