خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 471
خطبات مسرور جلد 15 471 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 ستمبر 2017 کسی اور کو معبود قرار دیا جاوے یا پکارا جاوے۔پس خوب یاد رکھو! اور پھر یاد رکھو! کہ غیر اللہ کی طرف جھکنا خدا سے کاٹنا ہے۔نماز اور توحید کچھ ہی کہو کیونکہ توحید کے عملی اقرار کا نام ہی نماز ہے۔اس وقت بے برکت اور بے سود ہوتی ہے جب اس میں نیستی اور تذلل کی روح اور حنیف دل نہ ہو۔" ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 166 تا 168) پھر نماز میں وساوس پیدا ہونے کی وجہ بیان فرماتے ہیں۔بعض دفعہ کہتے ہیں کہ مختلف قسم کے وسوسے پیدا ہوتے رہتے ہیں۔خیالات آتے رہتے ہیں۔فرمایا کہ : " جن لوگوں کو خدا کی طرف پورا التفات نہیں ہوتا انہیں کو نماز میں بہت وساوس آتے ہیں۔دیکھو ایک قیدی جبکہ ایک حاکم کے سامنے کھڑا ہوتا ہے تو کیا اس وقت اس کے دل میں کوئی وسوسہ گزر جاتا ہے۔ایک قیدی جب حاکم کے سامنے کھڑا ہو تو اور خیال اس کے دل میں آ ہی نہیں سکتا۔یہی مثال ہے۔فرمایا کہ " ہر گز نہیں۔"کبھی اس کے دل میں یہ خیال نہیں آئے گا۔" وہ ہمہ تن حاکم کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور اس فکر میں ہوتا ہے کہ ابھی حاکم کیا حکم سناتا ہے۔اس وقت تو وہ اپنے وجود سے بھی بالکل بے خبر ہوتا ہے۔ایسا ہی جب صدق دل سے انسان خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرے اور سچے دل سے اس کے آستانہ پر گرے تو پھر کیا مجال ہے کہ شیطان وساوس ڈال سکے۔" ( ملفوظات جلد 10 صفحہ 90-91) نماز کی حفاظت کیوں کی جائے اور نماز کیوں پڑھی جائے ؟ کیا اللہ تعالیٰ کو ہماری نمازوں کی ضرورت ہے ؟ اکثر لوگوں کے ذہنوں میں یہ بھی سوال اٹھتے ہیں۔آجکل کی دہریت کے اثر کی وجہ سے اٹھتے رہتے ہیں۔اس بات کی وضاحت فرماتے ہوئے کہ اللہ غنی ہے اور اسے ہماری عبادتوں کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ہمیں اس کی ضرورت ہے۔آپ فرماتے ہیں: " پھر یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ نماز کی حفاظت اس واسطے نہیں کی جاتی کہ خدا کو ضرورت ہے۔خدا تعالیٰ کو ہماری نمازوں کی کوئی ضرورت نہیں۔وہ تو غنی عن العالمین ہے۔اس کو کسی کی حاجت نہیں۔بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو ضرورت ہے اور یہ ایک راز کی بات ہے کہ انسان خود اپنی بھلائی چاہتا ہے اور اسی لئے وہ خدا سے مدد طلب کرتا ہے۔کیونکہ یہ سچی بات ہے کہ انسان کا خدا تعالیٰ سے تعلق ہو جانا حقیقی بھلائی کا حاصل کر لینا ہے۔ایسے شخص کی اگر تمام دنیا دشمن ہو جائے اور اس کی ہلاکت کے درپے رہے تو اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکتی اور خدا تعالیٰ کو ایسے شخص کی خاطر اگر لاکھوں کروڑوں انسان بھی ہلاک کرنے پڑیں تو کر دیتا ہے اور اس ایک کی بجائے لاکھوں کو فنا کر دیتا ہے۔" صحابہ کس طرح غالب آئے ؟ اس کی وضاحت کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں: (ملفوظات جلد 10 صفحہ 66)