خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page v
خطبات مسرور جلد 15 3 دیا کے خلاف منصوبے بنا کر ایک خاص مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔اس لئے کسی کو دنیا میں امن قائم کرنے کی اگر حقیقی خواہش ہے اور کامیاب کوشش کی نیت ہے تو ان تمام اسباب کا جائزہ لینا ہو گا۔اسی طرح مخلوق خدا سے سچا پیار کرنے والے اور ہمدرد دل رکھنے والا امام۔خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ بار بار جماعت کو یہ تحریک بھی کر رہا ہے کہ ”ایک مومن کا کام ہے کہ اپنے اس ذاتی دائرے سے باہر نکل کر جماعت کے لئے بھی بہت دعا کریں۔مسلم اللہ کے لئے ، اپنے اپنے ملکوں کے لئے بھی دعا کریں۔دنیا پر جو بھیانک خطرات منڈلا رہے ہیں ان کے دُور ہونے کے لئے بھی دعا کریں۔جو باہر کے ممالک میں ہیں، یورپ میں اور ترقی یافتہ ممالک میں رہتے ہیں وہ بھی اپنے آپ کو محفوظ نہ سمجھیں دنیا اگر جنگوں کی تباہی اور بربادی سے بچ سکتی ہے تو صرف ایک ہی ذریعہ سے بیچ سکتی ہے اور وہ ہے ہر احمدی کی ایک درد کے ساتھ ان تباہیوں سے انسانیت کو بچانے کے لئے دعا۔“ نیز ہر احمدی کہ جس کی دعاؤں سے ایک انقلاب بر پا ہو گا اور جو دنیا کا معلم بننے والا ہے اس کی اپنی اصلاح اور نیک نمونہ اختیار کرنے کے لئے اس کی کیا کیا ذمہ داریاں ہیں اور اس کا حصول دعا، نمازوں، درود شریف، آنحضرت صلی اللہ سلم کا اسوہ اختیار کرنے ، خلیفہ وقت کے ارشادات پر عمل کرنے اور اس کے پیچھے چلنے سے ہی ممکن ہے اور یہ علمی و عملی روشنی اور قوت اب ”حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا علم کلام پڑھ کر ہی مل سکتی ہے۔یادر کھیں جو فیصلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کئے ہیں وہی اصل فیصلے ہیں اور آپ کے علم کلام کی بنیاد پر جو تفسیریں جماعت میں خلفاء نے کی ہیں وہی حقیقی تفاسیر ہیں (اس لئے) انہیں پڑھیں اور اپنا علم بڑھائیں۔“ آئندہ دنیا کی رہنمائی اور اس کی بقا خلافت کے نظام کے ساتھ ہی وابستہ ہے۔اور مسلمانوں کی اکثریت اس بات کو سمجھتی نہیں کہ خلافت کا نظام کس طرح قائم ہو گا۔خلافت نہ دنیاوی طاقت سے مل سکتی ہے، نہ دنیاوی چالاکیوں سے ، نہ نام نہاد علماء کے جمع ہو کر قرار دادیں پاس کرنے سے کہ مسلمان اکٹھے ہوں اور اپنا کوئی خلیفہ چن لیں، اس طرح نہیں ہو گی۔خلافت کا نظام جو خوف کو امن میں بدلنے والا نظام ہے۔جو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرتے ہوئے تمکنت دین کا ذریعہ بنے والا ہے۔اس کا تعلق اس ذریعہ سے قائم ہونے والی خلافت سے ہے جس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول