خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 470 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 470

خطبات مسرور جلد 15 470 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 ستمبر 2017 اپنے آپ کو عبادت کرنے والا موحد کہتا ہے تو فرمایا کہ پھر تمام توجہ اس طرف متوجہ ہونی چاہئے۔فرمایا جب ایسی حالت ہو " تو لاریب وہ مسلم ہے۔تب یقیناً وہ مسلمان ہے۔" وہ مومن اور حنیف ہے۔لیکن جو شخص اللہ تعالیٰ کے سوا غیر اللہ سے سوال کرتا ہے اور ادھر بھی جھکتا ہے وہ یاد رکھے کہ بڑا ہی بد قسمت اور محروم ہے کہ اس پر وہ وقت آجانے والا ہے کہ وہ زبانی اور نمائشی طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف نہ جھک سکے۔" فرمایا کہ "ترک نماز کی عادت اور کسل کی ایک وجہ یہ بھی ہے کیونکہ جب انسان غیر اللہ کی طرف جھکتا ہے تو روح اور دل کی طاقتیں اس درخت کی طرح (جس کی شاخیں ابتداء ایک طرف کر دی جاویں اور اس طرف جھک کر پرورش پالیس) ادھر ہی جھکتا ہے۔" پس یہ بہت اہم بات ہے۔جب نماز ترک کی یا کمزوریاں دکھائیں۔نماز پڑھنے میں سستی دکھائی اور اللہ کے سوا کسی اور طرف زیادہ انحصار کرناشروع کر دیا تو پھر انسان اس درخت کی طرح دُور ہٹتا چلا جاتا ہے جس کی شاخوں کا رخ اگر ایک طرف پھیر دیا جائے تو آہستہ آہستہ وہ شاخیں اسی طرف بڑھنی شروع ہو جاتی ہیں۔فرمایا " اور خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک سختی اور تشدد اس کے دل میں پیدا ہو کر اسے منجمد اور پتھر بنادیتا ہے۔جیسے وہ شاخیں۔"جو درخت کی شاخیں ایک طرف جھک رہی تھیں " پھر دوسری طرف مڑ نہیں سکتا۔اسی طرح پر دل اور روح دن بدن خدا تعالیٰ سے دور ہوتی جاتی ہے۔پس یہ بڑی خطرناک اور دل کو کپکپا دینے والی بات ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر دوسرے سے سوال کرے۔اسی لئے نماز کا التزام اور پابندی بڑی ضروری چیز ہے تا کہ اولاً وہ ایک عادت راسخہ کی طرح قائم ہو اور رجوع الی اللہ کا خیال ہو۔پھر رفتہ رفتہ وہ وقت خود آجاتا ہے جبکہ انقطاع کلی کی حالت میں انسان ایک نور اور ایک لذت کا وارث ہو جاتا ہے۔" پھر ہر چیز سے علیحدہ ہو جاتا ہے۔کٹ جاتا ہے۔اور صرف اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہوتا ہے۔تب انسان کو ایک نور ملتا ہے اور لذت حاصل ہوتی ہے۔فرمایا " میں اس امر کو پھر تاکید سے کہتا ہوں۔افسوس ہے کہ مجھے وہ لفظ نہیں ملے جس میں غیر اللہ کی طرف رجوع کرنے کی برائیاں بیان کر سکوں۔لوگوں کے پاس جا کر منت خوشامد کرتے ہیں۔یہ بات خدا تعالیٰ کی غیرت کو جوش میں لاتی ہے کیونکہ یہ تو لوگوں کی نماز ہے۔پس وہ اس سے ہمتا اور اسے دور پھینک دیتا ہے۔میں موٹے الفاظ میں اس کو بیان کرتا ہوں۔گو یہ امر اس طرح پر نہیں ہے مگر سمجھ میں خوب آسکتا ہے کہ جیسے ایک مرد غیور کی غیرت تقاضا نہیں کرتی کہ وہ اپنی بیوی کو کسی غیر کے ساتھ تعلق پیدا کرتے ہوئے دیکھ سکے اور جس طرح پر وہ مرد ایسی حالت میں اس نابکار عورت کو واجب القتل سمجھتا بلکہ بسا اوقات ایسی وارداتیں ہو جاتی ہیں۔ایسا ہی جوش اور غیرت الوہیت کا ہے۔" اللہ تعالی کو بڑی غیرت ہے۔"عبودیت اور دعا خاص اسی ذات کے مد مقابل ہیں۔" پس اسی ذات کے مد مقابل ہیں یعنی عبودیت اور دعا خاص کر اسی کو چاہئے۔"وہ پسند نہیں کر سکتا کہ