خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 469 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 469

خطبات مسرور جلد 15 469 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 29 ستمبر 2017 کر جاتی ہے۔" اس طرح کی نماز ہو اس طرح کی صلوۃ ہو تبھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ برائیوں کو ختم کرتی ہے۔تو پھر برائیاں ختم ہوتی ہیں، ان کو جلا دیتی ہے۔" اور اپنی جگہ ایک نور اور چمک چھوڑ دیتی ہے جو سالک کو راستے کے خطرات اور مشکلات کے وقت ایک منور شمع کا کام دیتی ہے۔" ایک روشنی کا کام دیتی ہے۔ایک ٹارچ لائٹ کا کام دیتی ہے " اور ہر قسم کے خس و خاشاک اور ٹھو کر کے پتھروں اور خار و خس سے جو اس کی راہ میں ہوتی ہیں آگاہ کر کے بچاتی ہے۔" ہر برائی نظر آجاتی ہے۔اور یہی وہ حالت ہے جبکہ انَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ (العنکبوت : 46) کا اطلاق اس پر ہوتا ہے کیونکہ اس کے ہاتھ میں نہیں، اس کے دل میں ایک روشن چراغ رکھا ہوا ہوتا ہے۔" فرمایا یہی وہ حالت ہے جبکہ اِنَّ الصَّلوةَ تنهى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ کا اطلاق اس پر ہوتا ہے کہ نماز جو ہے وہ فحشاء اور گناہوں سے روکتی ہے۔غلط چیزوں سے روکتی ہے۔فرمایا کہ اس وقت اس کے دل میں ایک روشن چراغ رکھا ہوا ہوتا ہے اور یہ درجہ کامل تذلل ، کامل نیستی اور فروتنی اور پوری اطاعت سے حاصل ہوتا ہے۔فرمایا " پھر گناہ کا خیال اسے کیونکر آسکتا ہے۔"جب یہ حالت ہو جاتی ہے تو گناہ کا خیال کس طرح آسکتا ہے " اور انکار اس میں پیدا ہی نہیں ہو سکتا۔" فرمایا کہ "فحشاء کی طرف اس کی نظر اٹھ ہی نہیں سکتی۔غرض ایک ایسی لذت، ایسا سرور حاصل ہوتا ہے میں نہیں سمجھ سکتا کہ اسے کیونکر بیان کروں۔" ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 164 تا 166) پھر اس بات کی وضاحت فرماتے ہوئے کہ ایک غیرت مند مومن ہر حالت میں صرف اللہ تعالیٰ کے آگے ہی جھکتا ہے اور جھکنا چاہئے اور اللہ تعالیٰ کے غیر کو کسی صورت میں بھی اپنی امیدوں اور توجہ کا مرکز نہیں بنانا چاہئے۔آپ فرماتے ہیں : " پھر یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ یہ نماز جو اپنے اصلی معنوں میں نماز ہے دعا سے حاصل ہوتی ہے۔" نماز بھی دعا سے حاصل ہوتی ہے۔" غیر اللہ سے سوال کرنا مومنانہ غیرت کے صریح اور سخت مخالف ہے کیونکہ یہ مرتبہ دعا کا اللہ ہی کے لئے ہے۔جب تک انسان پورے طور پر خفیف ہو کر اللہ تعالیٰ ہی سے سوال نہ کرے اور اسی سے نہ مانگے۔سچ سمجھو کہ حقیقی طور پر وہ سچا مسلمان اور سچا مومن کہلانے کا مستحق نہیں۔اسلام کی حقیقت ہی یہ ہے کہ اس کی تمام طاقتیں اندرونی ہوں یا بیرونی، سب کی سب اللہ تعالیٰ ہی کے آستانہ پر گری ہوئی ہوں۔جس طرح پر ایک بڑا انجن بہت سی کلوں کو چلاتا ہے "بہت سے پرزوں کو ایک انجن چلاتا ہے " پس اسی طور پر جب تک انسان اپنے ہر کام اور ہر حرکت و سکون کو اسی انجن کی طاقت عظمی کے ماتحت نہ کر لیوے وہ کیونکر اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا قائل ہو سکتا ہے اور اپنے آپ کو ائی وَجَهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ (الانعام : 80) کہتے وقت واقعی حنیف کہہ سکتا ہے ؟ جیسے منہ سے کہتا ہے ویسے ہی ادھر کی طرف متوجہ ہو۔" جب اپنی تمام توجہ اللہ تعالیٰ کی طرف پھیرنے کا اظہار کرتا ہے اور