خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 468 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 468

خطبات مسرور جلد 15 468 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 ستمبر 2017 نقل ہی اتارنی ہے فرمایا " اور اسے ایک بار گراں سمجھ کر اتار پھینکنے کی کوشش کی جاوے تو تم ہی بتاؤ اس میں کیا لذت اور حظ آسکتا ہے اور جب تک لذت اور سرور نہ آئے اس کی حقیقت کیونکر متحقق ہو گی۔" لذت اور سرور نہیں آیا تو پتہ ہی نہیں لگ سکتا کہ نماز کی حقیقت کیا ہے؟۔فرمایا اور یہ اس وقت ہو گا جبکہ روح بھی ہمہ نیستی اور تذلل تام ہو کر آستانہ الوہیت پہ گرے۔" پس روح کو بھی اسی طرح سجدہ کرنا چاہئے اور اللہ تعالیٰ کے آگے گرنا چاہئے جس طرح انسان کا جسم سجدے میں چلا جاتا ہے " اور جو زبان بولتی ہے روح بھی بولے " جو الفاظ زبان سے بولے جار ہے ہیں وہ دل سے نکلنے والے الفاظ ہوں۔فرمایا کہ " اس وقت ایک سرور اور نور اور تسکین حاصل ہو جاتی ہے۔" فرماتے ہیں کہ " میں اس کو اور کھول کر لکھنا چاہتا ہوں کہ انسان جس قدر مراتب طے کر کے انسان ہو تا ہے۔یعنی کہاں نطفہ بلکہ اس سے بھی پہلے نطفے کے اجزاء یعنی مختلف قسم کی اغذیہ اور ان کی ساخت اور بناوٹ پھر نطفے کے بعد مختلف مدارج کے بعد بچہ۔پھر جوان۔بوڑھا۔غرض ان تمام عالموں میں جو اس پر مختلف اوقات میں گزرے ہیں اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا معترف ہو اور وہ نقشہ ہر آن اس کے ذہن میں کھنچار ہے تو بھی وہ اس قابل ہو سکتا ہے کہ ربوبیت کے مذ مقابل میں اپنی عبودیت کو ڈال دے۔" انسان جب یہ سارا سوچے کہ میں کس طرح پیدا ہوا؟ کس طرح مختلف مراحل میں سے گزرا؟ کس طرح بڑا ہوا؟ کس طرح اللہ تعالیٰ نے مجھے پالا پوسا بڑا کیا؟ تو تبھی صحیح طرح، صحیح عبودیت کا حق، ایک عبد بننے کا حق انسان سوچ سکتا ہے اور ادا کر سکتا ہے۔فرمایا کہ " غرض مدعا یہ ہے کہ نماز میں لذت اور سرور بھی عبودیت اور ربوبیت کے ایک تعلق سے پیدا ہوتا ہے۔جب تک اپنے آپ کو عدم محض یا مشابہ بالعدم قرار دے کر " جب تک بے وقعت اور بے حقیقت نہ سمجھو گے "جور بوبیت کا ذاتی تقاضا ہے نہ ڈال دے اس کا فیضان اور پر تو اس پر نہیں پڑتا۔" اللہ تعالیٰ کے فیض سے فائدہ اٹھانا ہے تو کامل عبودیت پیدا کرنی ہو گی۔فرمایا کہ " اور اگر ایسا ہو تو پھر اعلیٰ درجہ کی لذت حاصل ہوتی ہے جس سے بڑھ کر کوئی حظ نہیں ہے۔اس مقام پر انسان کی روح جب ہمہ نیستی ہو جاتی ہے تو وہ خدا کی طرف ایک چشمہ کی طرح بہتی ہے اور ماسوی اللہ سے اسے انقطاع تام ہو جاتا ہے۔" اللہ کے علاوہ ہر دوسری چیز سے وہ مکمل طور پر تعلق کاٹ لیتا ہے۔" اس وقت خدائے تعالیٰ کی محبت اس پر گرتی ہے۔اس اتصال کے وقت ان دو جوشوں سے جو اوپر کی طرف سے ربوبیت کا جوش اور نیچے کی طرف سے عبودیت کا جوش ہوتا ہے ایک خاص کیفیت پیدا ہوتی ہے۔" ایسا تعلق جب پیدا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی ربوبیت پھر جوش میں آتی ہے اور انسان کی عبودیت کا بھی ایک جوش پیدا ہو رہا ہو تا ہے اور جب یہ دونوں ملتے ہیں تو آپ نے فرمایا کہ تب ایک خاص کیفیت پیدا ہوتی ہے۔" اس کا نام صلوۃ ہے۔" اس خاص کیفیت کا نام صلوۃ ہے جو ربوبیت اور عبودیت کے ملنے سے پیدا ہو۔فرمایا کہ " پس یہی وہ صلوۃ ہے جو سیئات کو