خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 467
خطبات مسرور جلد 15 467 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 29 ستمبر 2017 لوگ باوجود نماز پڑھنے کے پھر بدیاں کرتے ہیں۔اس کا جواب یہ ہے کہ وہ نمازیں پڑھتے ہیں مگر نہ روح اور راستی کے ساتھ۔"نمازوں میں روح کوئی نہیں ہوتی۔فرمایا " وہ صرف رسم اور عادت کے طور پر ٹکریں مارتے ہیں۔ان کی روح مردہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے ان کا نام حسنات نہیں رکھا اور یہاں جو حسنات کا لفظ رکھا الصلوۃ کا لفظ نہیں رکھا باوجودیکہ معنی وہی ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ تا نماز کی خوبی اور حسن و جمال کی طرف اشارہ کرے کہ وہ نماز بدیوں کو دور کرتی ہے جو اپنے اندر ایک سچائی کی روح رکھتی ہے۔وہ نماز بدیوں کو ڈور کرتی ہے جو اپنے اندر ایک سچائی کی روح رکھتی ہے۔" اور فیض کی تاثیر اس میں موجود ہے۔وہ نماز یقینا یقیناً برائیوں کو دور کرتی ہے۔" فرمایا کہ " نماز نشست و برخاست کا نام نہیں ہے۔" نماز صرف اٹھنے بیٹھنے کا نام نہیں ہے۔" نماز کا مغز اور روح وہ دعا ہے جو ایک لذت اور سرور اپنے اندر رکھتی ہے۔" ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 162 تا 164) نماز کی روح اور مقصد کو حاصل کرنے کی کس طرح کوشش کرنی چاہئے ؟ ارکانِ نماز جو ہیں، قیام ہے۔رکوع ہے۔سجدہ ہے۔قعدہ ہے۔یہ جو ساری حالتیں نماز میں ہیں اس لئے رکھی گئی ہیں کہ اس مقصد کو حاصل کیا جائے۔اس روح کو حاصل کیا جائے۔اس بارہ میں آپ فرماتے ہیں کہ " ارکان نماز دراصل روحانی نشست و برخاست ہیں۔انسان کو خدا تعالیٰ کے روبرو کھڑا ہونا پڑتا ہے اور قیام بھی آداب خدمتگاران میں سے ہے۔" جو خدمت کرنے والے لوگ ہیں کسی بڑے آدمی کے سامنے جاتے ہیں تو ادب سے کھڑے ہوتے ہیں۔تو قیام جو ہے نماز میں وہ ادب کی نشانی ہے۔" رکوع جو دوسرا حصہ ہے بتلاتا ہے کہ گویا تیاری ہے کہ وہ تعمیل حکم کو کس قدر گردن جھکاتا ہے۔اور سجدہ کمالِ آداب اور کمالِ تذلل اور نیستی کو جو عبادت کا مقصود ہے ظاہر کرتا ہے۔" جب انسان سجدہ کرتا ہے تو اپنے آپ کو انتہائی عاجزی اور نیستی اور تذلل کی حالت میں لے جاتا ہے۔یہی عبادت کا مقصد ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے آگے سر جھکاتا ہوں فرمایا کہ " یہ آداب اور طرق ہیں جو خدا تعالیٰ نے بطور یادداشت کے مقرر کر دیئے ہیں اور جسم کو باطنی طریق سے حصہ دینے کی خاطر ان کو مقرر کیا ہے۔" انسان جس طرح ظاہری طور پر یہ آداب بجالا رہا ہے، اسی طرح اندرونی طور پر روحانی طور پر روح کو بھی اسی طرح آداب بجالانے چاہئیں۔دل کا بھی اسی طرح قیام اور رکوع اور سجدہ ہونا چاہئے۔فرمایا کہ "علاوہ ازیں باطنی طریق کے اثبات کی خاطر ایک ظاہری طریق بھی رکھ دیا ہے۔اب اگر ظاہری طریق میں ( جو اندرونی اور باطنی طریق کا ایک عکس ہے ) صرف نقال کی طرح نقلیں اتاری جاویں" صرف ہاتھ باندھ لئے ، رکوع میں چلے گئے ، سجدے میں چلے گئے ، بیٹھ گئے اگر نقال کی طرح صرف یہ اٹھک بیٹھک ہی کرنی ہے،