خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 466 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 466

466 خطبات مسرور جلد 15 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 ستمبر 2017 کہ جس طرح پھلوں اور اشیاء کی طرح طرح کی لذتیں عطا کی ہیں نماز اور عبادت کا بھی ایک بار مزہ چکھا دے۔کھایا ہوا یا د رہتا ہے۔" آپ فرماتے ہیں کہ کھایا ہوا یا د رہتا ہے۔" دیکھو اگر کوئی شخص کسی خوبصورت کو ایک سرور کے ساتھ دیکھتا ہے تو وہ اسے خوب یاد رہتا ہے۔اور پھر اگر کسی بد شکل اور مکر وہ ہیئت کو دیکھتا ہے تو اس کی ساری حالت باعتبار اس کے مجسم ہو کر سامنے آ جاتی ہے۔ہاں اگر کوئی تعلق نہ ہو تو کچھ یاد نہیں رہتا۔" بدصورتیاں اور خوبصورتیاں بھی انسان کو اس لئے یا د رہتی ہیں کہ ایک توجہ دے کر دیکھ رہا ہوتا ہے۔لیکن اگر کوئی تعلق نہ ہو تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔اسے کچھ نہیں یاد رہتا۔فرمایا کہ " اسی طرح بے نمازوں کے نزدیک نماز ایک تاوان ہے کہ ناحق صبح اٹھ کر سردی میں وضو کر کے خواب راحت چھوڑ کر ، کئی قسم کی آسائشوں کو کھو کر پڑھنی پڑتی ہے۔اصل بات یہ ہے کہ اُسے بیزاری ہے۔" فرمایا کہ اصل بات یہ ہے کہ اسے بیزاری ہے۔" وہ اس کو سمجھ نہیں سکتا۔اس لذت اور راحت سے جو نماز میں ہے اس کو اطلاع نہیں ہے " اس کو پتا ہی نہیں کہ نماز میں کیا لذت اور راحت ہے۔فرمایا " پھر نماز میں لذت کیونکر حاصل ہو۔" آپ فرماتے ہیں کہ "میں دیکھتا ہوں کہ ایک شرابی اور نشہ باز انسان کو جب سرور نہیں آتا تو وہ پے در پے پیالے پیتا جاتا ہے یہاں تک کہ اس کو ایک قسم کا نشہ آجاتا ہے۔دانشمند اور بزرگ انسان اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے اور وہ یہ کہ نماز پر دوام کرے۔" با قاعد گی کرے۔جب تک مزانہ آئے نمازیں پڑھتا جائے۔اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا جائے کہ اے اللہ ! مجھے نماز میں وہ سرور اور حظ دے جو اور چیزوں میں تو نے دیا ہوا ہے۔فرمایا دوام کرے اور پڑھتا جاوے یہاں تک کہ اس کو سرور آجاوے۔اور جیسے شرابی کے ذہن میں ایک لذت ہوتی ہے جس کا حاصل کرنا اس کا مقصود بالذات ہو تا ہے۔اسی طرح سے ذہن میں اور ساری طاقتوں کا رجحان نماز میں اسے سرور کا حاصل کرنا ہو۔" ساری جو قوتیں ہیں اس طرف لگائے کہ میں نے نماز میں سرور حاصل کرنا ہے۔نماز کا مزا اٹھانا ہے۔فرمایا " اور پھر ایک خلوص اور جوش کے ساتھ کم از کم اس نشہ باز کے اضطراب اور قلق و کرب کی مانند ہی ایک دعا پیدا ہو کہ وہ لذت حاصل ہو تو میں کہتا ہوں۔" آپ فرماتے ہیں اس لذت کے حاصل کرنے کے لئے اگر یہ دعا پید اہو، ایک کرب پیدا ہو، اضطراب پیدا ہو تو آپ فرماتے ہیں تو میں کہتا ہوں " اور سچ کہتا ہوں کہ یقیناً یقیناً وہ لذت حاصل ہو جاوے گی۔" پھر آپ فرماتے ہیں " پھر نماز پڑھتے وقت ان مفاد کا حاصل کرنا بھی ملحوظ ہو جو اس سے ہوتے ہیں اور احسان پیش نظر رہے۔اِنَّ الْحَسَنتِ يُذْهِبْنَ السَّيَاتِ (هود 115)۔"فرماتے ہیں: " نیکیاں بدیوں کو زائل کر دیتی ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔" پس ان حسنات کو اور لذات کو دل میں رکھ کر دعا کرے کہ وہ نماز جو کہ صدیقوں اور محسنوں کی ہے وہ نصیب کرے۔یہ جو فرمایا ہے اِنَّ الْحَسَنتِ يُذْهِبْنَ السَّيَّاتِ (هود: 115)۔یعنی نیکیاں یا نماز بدیوں کو دور کرتی ہے یا دوسرے مقام پر فرمایا ہے۔نماز فواحش اور برائیوں سے بچاتی ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ بعض