خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 465 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 465

خطبات مسرور جلد 15 465 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 ستمبر 2017 پڑھتے ہیں تو وہ نماز ان پر لعنت بھیجتی ہے۔جیسے فرمایا اللہ تعالیٰ نے فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ - الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ (الماعون: 5-6)۔یعنی لعنت ہے ان نمازیوں پر جو نماز کی حقیقت سے ہی بے خبر ہوتے ہیں۔" فرمایا کہ " نماز تو وہ چیز ہے کہ انسان اس کے پڑھنے سے ہر ایک طرح کی بد عملی اور بے حیائی سے بچایا جاتا ہے۔۔۔اس طرح کی نماز پڑھنی انسان کے اپنے اختیار میں نہیں ہوتی اور یہ طریق خدا کی مدد اور استعانت کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا۔اور جب تک انسان دعاؤں میں نہ لگا ر ہے اس طرح کا خشوع اور خضوع پیدا نہیں ہو سکتا۔" نماز پڑھنے کے لئے اور یہ مقام حاصل کرنے کے لئے کہ جہاں انسان سب برائیوں سے بچے ایک کوشش کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل کو حاصل کرنے کی ضرورت ہے اس کے لئے خشوع اور خضوع ضروری ہے۔آپ فرماتے ہیں " اس لئے چاہئے کہ تمہارا دن اور تمہاری رات غرض کوئی گھڑی دعاؤں سے خالی نہ ہو۔" ( ملفوظات جلد 10 صفحہ 66-67) پس نماز کا حظ اور سرور حاصل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کے فضل کو حاصل کرنے کی ضرورت ہے اور اللہ تعالیٰ کا فضل مانگنے کے لئے پھر اسی کے آگے جھکنے کی ضرورت ہے اور چلتے پھرتے بھی اس کا ذکر کرنے کی ضرورت ہے اور خشوع مانگنے کی ضرورت ہے۔یہ حالت انسان پیدا کرے تو پھر نمازوں کا بھی مزا آتا ہے۔پھر نماز میں لذت نہ آنے کی وجہ اور اس کا علاج بتاتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ : " میں دیکھتا ہوں کہ لوگ نمازوں میں غافل اور سست اس لئے ہوتے ہیں کہ اُن کو اس لذت اور سرور سے اطلاع نہیں جو اللہ تعالیٰ نے نماز کے اندر رکھا ہے اور بڑی بھاری وجہ اس کی یہی ہے۔پھر شہروں اور گاؤں میں تو اور بھی سستی اور غفلت ہوتی ہے۔" جو آبادیوں میں رہنے والے لوگ ہیں، زیادہ مصروف ہیں۔وہ اپنے کاموں کی وجہ سے اور بھی زیادہ سست ہو جاتے ہیں۔فرمایا کہ " سو پچاسواں حصہ بھی تو پوری مستعدی اور سچی محبت سے اپنے مولا حقیقی کے حضور سر نہیں جھکاتا۔پھر سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ کیوں ؟ ان کو اس لذت کی اطلاع نہیں اور نہ کبھی انہوں نے اس مزا کو چکھا۔اور مذاہب میں ایسے احکام نہیں ہیں۔" دوسرے مذہب جو ہیں اُن میں باقاعدگی سے عبادت کرنے کے ایسے احکام نہیں ہیں۔فرمایا" کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ہم اپنے کاموں میں مبتلا ہوتے ہیں اور مؤذن اذان دے دیتا ہے۔پھر وہ سنا بھی نہیں چاہتے گویا ان کے دل دُکھتے ہیں۔یہ لوگ بہت ہی قابل رحم ہیں۔" اذان ہو گئی مگر اذان پر کان نہیں دھرا۔یا نماز کا وقت ہو گیا اور اس کی طرف توجہ نہیں دی۔فرمایا کہ " یہ لوگ بہت ہی قابل رحم ہیں۔" آپ نے فرمایا کہ " بعض لوگ یہاں بھی ایسے ہیں کہ ان کی دکانیں دیکھو تو مسجدوں کے نیچے ہیں مگر کبھی جا کر کھڑے بھی تو نہیں ہوتے۔" یعنی نماز کے لئے نہیں جاتے۔فرمایا کہ "پس میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ سے نہایت سوز اور ایک جوش کے ساتھ یہ دعا مانگنی چاہئے