خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 464 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 464

خطبات مسرور جلد 15 464 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 29 ستمبر 2017 نماز میں حظ نہیں آتا تو اس کا مطلب ہے وہ بھی بیمار ہیں۔فرمایا " کیونکہ جیسا میں نے ابھی کہا ہے دنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس میں خدا تعالیٰ نے کوئی نہ کوئی لذت نہ رکھی ہو۔اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو عبادت کے لئے پیدا کیا تو پھر کیا وجہ ہے کہ اس عبادت میں اس کے لئے لذت اور سرور نہ ہو۔لذت اور سرور تو ہے مگر اس سے حظ اٹھانے والا بھی تو ہو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذُّاریات: 57)۔اب انسان جبکہ عبادت ہی کے لئے پیدا ہوا ہے" تو پھر " ضروری ہے کہ عبادت میں لذت اور سرور بھی درجہ غایت کار کھا ہو۔" عبادت میں اعلیٰ درجے کی لذت اور سرور بھی ہونا چاہئے۔نہیں تو اللہ تعالیٰ نے صرف پیدا کیا اور اس کا کوئی مقصد نہیں یا اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے یا اس میں سرور نہیں حاصل ہو رہا تو کس طرح انسان وہ کام کر سکتا ہے۔فرمایا اس بات کو ہم اپنے روز مرہ کے مشاہدہ اور تجربے سے خوب سمجھ سکتے ہیں۔مثلاً دیکھو اناج اور تمام خوردنی اور نوشیدنی اشیاء انسان کے لئے پیدا ہوئی ہیں۔" کھانے پینے کی تمام چیزیں انسان کے لئے پیدا ہوئی ہیں " تو کیا ان سے وہ ایک لذت اور حظ نہیں پاتا؟ کیا اس ذائقہ ، مزے اور احساس کے لئے اس کے منہ میں زبان موجود نہیں۔کیا وہ خوبصورت اشیاء دیکھ کر نباتات ہوں یا جمادات۔" پودے ہوں، پھل ہوں، پہاڑ ہوں، خوبصورت چیزیں ہوں "حیوانات ہوں یا انسان حفظ نہیں پاتا ؟ " ان کو دیکھ کر یقیناً اس سے وہ لطف اندوز ہو تا ہے۔فرمایا کہ "کیادل خوش کن اور سریلی آوازوں سے اس کے کان محفوظ نہیں ہوتے؟ پھر کیا کوئی دلیل اور بھی اس امر کے اثبات کے لئے مطلوب ہے کہ عبادت میں لذت نہیں۔" آگے آپ فرماتے ہیں کہ " اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے عورت اور مرد کو جوڑا پیدا کیا اور مرد کو رغبت دی ہے۔اب اس میں زبر دستی نہیں کی بلکہ ایک لذت بھی دکھلائی ہے۔اگر محض توالد و تناسل ہی مقصود بالذات ہو تا تو مطلب پورا نہ ہو سکتا۔آپ فرماتے ہیں کہ "خوب سمجھ لو کہ عبادت بھی کوئی بوجھ اور ٹیکس نہیں۔اس میں بھی ایک لذت اور سرور ہے اور یہ لذت اور سرور دنیا کی تمام لذتوں اور تمام حظوظ نفس سے بالا تر اور بلند ہے۔فرماتے ہیں کہ " جیسے ایک مریض کسی عمدہ سے عمدہ خوش ذائقہ غذا کی لذت سے محروم ہے اسی طرح پر ہاں ٹھیک ایسا ہی وہ کمبخت انسان ہے جو عبادت الہی سے لذت نہیں پاسکتا۔" ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 159-160) پس یہ انسان کی کمزوری ہے اور نمازوں کی طرف توجہ نہ دینا ہےاور اللہ تعالی کے فضل سے محروم ہونا ہے کہ نماز میں لذت نہیں آتی۔پس ہمیں، ہم میں سے جو بھی ایسے ہیں ان کو فکر کرنی چاہئے۔پھر حقیقی نماز کس قسم کی ہے اور کیسی ہونی چاہئیے ؟ اس بات کی وضاحت فرماتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ : " یاد رکھو یہ نماز ایسی چیز ہے کہ اس سے دنیا بھی سنور جاتی ہے اور دین بھی۔لیکن اکثر لوگ جو نماز