خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 463 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 463

خطبات مسرور جلد 15 463 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 ستمبر 2017 جس مذہب میں عمل نہیں وہ مذہب کچھ نہیں۔اس لئے اس بات کو خوب یا د ر کھو اور اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق اپنے عمل کر لو۔" فرمایا کہ "اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نشانوں میں سے ایک یہ بھی نشان ہے کہ آسمان اور زمین اس کے امر سے قائم رہ سکتے ہیں۔"اگر اللہ تعالیٰ کی مرضی ہو تو تبھی زمین و آسمان قائم ہیں ورنہ نہیں۔فرمایا کہ بعض دفعہ وہ لوگ جن کی طبائع طبیعیات کی طرف مائل ہیں کہا کرتے ہیں کہ نیچری مذہب قابلِ اتباع ہے کیونکہ اگر حفظ صحت کے اصولوں پر عمل نہ کیا جائے تو تقویٰ اور طہارت سے کیا فائدہ ہو گا؟" اپنے اپنے فلسفے لوگوں نے گھڑے ہوئے ہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ " سو واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ کے نشانوں میں سے یہ بھی ایک نشان ہے کہ بعض وقت ادویات بیکار رہ جاتی ہیں اور حفظ صحت کے اسباب بھی کسی کام نہیں آسکتے۔نہ دوا کام آسکتی ہے ،نہ طبیب حاذق۔لیکن اگر اللہ تعالیٰ کا امر ہو تو الٹا سیدھا ہو جایا کرتا ہے۔" (ملفوظات جلد 1 صفحہ 263) پس اس کے لئے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کیا جائے اور اس کے لئے بہترین ذریعہ اس کی عبادت اور عبادتوں میں نماز کی ادائیگی ہے۔پھر نماز کی حقیقت اور اہمیت اور انسان کو اس کی ضرورت اور نماز کی کیا کیفیت ہونی چاہئے ؟ ان باتوں کی وضاحت فرماتے ہوئے ایک موقع پر آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ: " نماز کیا ہے؟ فرمایا کہ " یہ ایک خاص دعا ہے۔مگر لوگ اس کو بادشاہوں کا ٹیکس سمجھتے ہیں۔نادان اتنا نہیں جانتے کہ بھلا خدا تعالیٰ کو ان باتوں کی کیا حاجت ہے۔اس کے غناء ذاتی کو اس بات کی کیا حاجت ہے کہ انسان دعا، تسبیح اور تہلیل میں مصروف ہے۔بلکہ اس میں انسان کا اپنا ہی فائدہ ہے کہ وہ اس طریق پر اپنے مطلب کو پہنچ جاتا ہے۔" نمازوں کے ذریعہ سے جو اس کی حاجات ہیں پوری ہوتی ہیں۔جو اس کا مقصدِ زندگی ہے وہ پورا ہو تا ہے ، وہ اپنے مطلب کو پہنچتا ہے۔فرمایا کہ " مجھے یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوتا ہے کہ آجکل عبادات اور تقویٰ اور دینداری سے محبت نہیں ہے۔اس کی وجہ ایک عام زہریلا اثر رسم کا ہے۔اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی محبت سرد ہو رہی ہے اور عبادت میں جس قسم کا مزا آنا چاہئے وہ مزا نہیں آتا۔" فرمایا کہ "دنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں جس میں لذت اور ایک خاص حظ اللہ تعالیٰ نے نہ رکھا ہو " ہر چیز میں لذت رکھی ہے اور انسان اس میں ایک خاص قسم کا حظ محسوس کرتا ہے۔فرمایا کہ " جس طرح پر ایک مریض ایک عمدہ سے عمدہ خوش ذائقہ چیز کا مزا نہیں اٹھا سکتا اور وہ اسے تلخ یا بالکل پھیکا سمجھتا ہے۔" مریض ہیں۔ان کے منہ بد مزہ ہو جاتے ہیں۔زبان بک کی ہو جاتی ہے تو ان کو کسی چیز کا مزا نہیں آتا۔اکثر مریضوں سے ہم یہی دیکھتے ہیں۔فرمایا کہ " اسی طرح وہ لوگ جو عبادت الہی میں حظ اور لذت نہیں پاتے ان کو اپنی بیماری کا فکر کرنا چاہئے۔" جن کو