خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 462 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 462

خطبات مسرور جلد 15 462 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 29 ستمبر 2017 جمع ہو کر نماز باجماعت پڑھ سکتے ہیں۔اگر یہ سہولت بھی نہیں تو گھر کے افراد مل کر نماز باجماعت پڑھیں۔اس سے بچوں کو بھی، نوجوانوں کو بھی نماز اور باجماعت نماز کی اہمیت کا احساس ہو گا۔پس انصار اللہ حقیقی رنگ میں انصار اللہ تبھی بن سکتے ہیں جب اللہ تعالیٰ کے دین کو قائم کرنے اور اس پر عمل کرنے اور کروانے میں اپنا کر دار ادا کریں۔اگر اللہ تعالیٰ کی عبادت جو انسان کی پیدائش کا مقصد ہے اس پر عمل نہیں کر رہے اور جن کے نگران بنائے گئے ہیں ان سے عمل نہیں کروا ر ہے یا عمل کروانے کی کوشش نہیں کر رہے، اپنے نمونے پیش نہیں کر رہے تو صرف نام کے انصار اللہ ہیں۔آج تلواروں اور تیروں کی جنگ نہیں ہو رہی جہاں مدد گاروں کی ضرورت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تو فرمایا ہے کہ ہمارا غالب آنے کا ہتھیار دعا ہے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 9 صفحہ 28) پس انصار اللہ بننے کے لئے اس دعا کے ہتھیار کو استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔اس کے لئے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق اس ہتھیار کو استعمال کیا جائے اور جب یہ ہو گا تبھی ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کا بھی صحیح حق ادا کرنے والے ہوں گے۔ورنہ آپ نے بار بار یہی فرمایا ہے کہ اگر میری باتوں کو نہیں مانا اور اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا نہیں کرنی، اپنی عبادتوں کے حق ادا نہیں کرنے تو پھر میری بیعت میں آنے کا کوئی فائدہ نہیں۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 10 صفحه 140) پس ہر ناصر کو خاص طور پر اپنے جائزے لینے چاہئیں کہ کس حد تک وہ نماز کے پابند ہیں۔کس حد تک وہ اپنا نمونہ اپنے بچوں کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ان کی نمازوں کی حالت اور کیفیت کیا ہے۔کیا صرف ایک فرض اور بوجھ سمجھ کر نمازیں ادا ہو رہی ہیں یا حقیقت میں اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے کے لئے ہم یہ سب کچھ کر رہے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نماز کی اہمیت، اس کی فرضیت، اس کی حکمت ، اس کو پڑھنے کا طریق، اس کا مقصد ، اس کا فلسفہ اور اوقات کا فلسفہ ، غرض اس موضوع پر مختلف پیرائے میں بار بار مختلف موقعوں پر اور جگہوں پر توجہ دلائی ہے۔آپ کے بعض ارشادات اس وقت میں پیش کروں گا جو اس کی اہمیت اور حکمت پر روشنی ڈالتے ہیں۔نمازوں کو باقاعدگی سے اور بالالتزام پڑھنے کے بارے میں نصیحت فرماتے ہوئے ایک موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مجلس میں فرمایا کہ: " نمازوں کو با قاعدہ التزام سے پڑھو۔" فرمایا کہ " بعض لوگ صرف ایک ہی وقت کی نماز پڑھ لیتے ہیں۔وہ یادرکھیں کہ نمازیں معاف نہیں ہوتیں یہاں تک کہ پیغمبروں تک کو معاف نہیں ہوئیں۔ایک حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک نئی جماعت آئی۔انہوں نے نماز کی معافی چاہی۔آپ صلی علیم نے فرمایا کہ