خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 21 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 21

خطبات مسرور جلد 15 21 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 جنوری 2017 - نکالنا اصل مقصد ہے، پہلا مقصد ہے تبھی تو اضطرار اور مجبوری کی حالت میں مُردار اور سور کے گوشت کھانے کی بھی اجازت ہے لیکن صرف زندگی بچانے کی خاطر۔اسی طرح دوائیوں میں الکحل(alcohol) بھی استعمال ہو جاتا ہے۔لیکن بہر حال جس طریق پر شیطانی قوتیں ہمیں چلانا چاہتی ہیں اس کا مقصد یہ ہے کہ آہستہ آہستہ دین کی حدود ختم کر دی جائیں اور مذہب کا خاتمہ کر دیا جائے اور اس بات کے خلاف ہم احمدیوں نے ہی جہاد کرنا ہے اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب اسلامی تعلیمات کو ہم ہر چیز پر اہمیت دیں گے اور خدا تعالیٰ کے آگے جھکیں گے تا کہ اللہ تعالیٰ کی مدد سے ہماری کامیابیاں ہوں۔مسیح موعود کے زمانے میں تلوار کا جہاد نہیں ہے بلکہ نفس کی اصلاح کا جہاد ہے۔ان ترقی یافتہ ملکوں میں رہنے والے مسلمان اور خاص طور پر دنیا میں رہنے والے احمدی مسلمان ہی اس کے لئے میرے مخاطب ہیں۔ان کو ملک سے وفا اور ملک کی خاطر قربانی اور ملک کی کسی بھی شکل میں ترقی کے لئے اعلیٰ مقام پر پہنچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔اور جب یہ ہو گا تو شیطانی قوتوں کے منہ بند ہو جائیں گے کہ یہ مسلمان وہ ہیں جو ملک و قوم کی بہتری کے حقیقی معیاروں کی طرف لے جانے والے ہیں نہ کہ ملک کے خلاف کچھ کرنے والے۔ہم نے ان لوگوں کو اور حکومتوں کو باور کرانا ہے کہ اگر ہم اپنی مذہبی تعلیم کی وجہ سے اپنے آپ کو کسی چیز کے پابند کرتے ہیں یا کسی چیز سے ند کرتے ہیں اور اپنے اوپر پابندی لگاتے ہیں تو حکومتوں یا عدالتوں کا کوئی کام نہیں کہ دخل اندازی کریں۔اس سے بیچینیاں پیدا ہوں گی۔مقامی لوگوں میں اور مہاجرین میں دُوریاں پیدا ہوں گی۔گو کہ جن کو یہ مہاجر کہتے ہیں ان کو بھی ان ملکوں میں آئے بعضوں کو تو دوسری تیسری نسل ہے۔ہاں اگر ملک کو کوئی نقصان پہنچارہا ہے ، ملک سے کوئی بے وفائی کر رہا ہے، ملک میں جھوٹ اور نفرتیں پھیلا رہا ہے تو پھر حکومتوں کو بھی حق ہے کہ پکڑیں اور سزائیں بھی دیں۔لیکن یہ کوئی حق نہیں کہ کسی مذہبی تعلیم پر عمل کرنے سے روک کر کہیں کہ اگر تم یہ کرو گے تو اس کا مطلب ہے کہ ملک کے ماحول میں تم جذب نہیں ہو رہے۔پابند ہم احمدیوں کو ہمیشہ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ یہ زمانہ بہت خطر ناک زمانہ ہے۔شیطان ہر طرف سے پر زور حملے کر رہا ہے۔اگر مسلمانوں اور خاص طور پر احمدی مسلمانوں، مردوں اور عورتوں، نوجوانوں سب نے مذہبی اقدار کو قائم رکھنے کی کوشش نہ کی تو پھر ہمارے بچنے کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔ہم دوسروں سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی پکڑ میں ہوں گے کہ ہم نے حق کو سمجھا، حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمیں سمجھایا اور ہم نے پھر بھی عمل نہ کیا۔پس اگر ہم نے اپنے آپ کو ختم ہونے سے بچانا ہے تو پھر ہر اسلامی تعلیم کے ساتھ پر اعتماد ہو کر دنیا میں رہنے کی ضرورت ہے۔یہ نہ سمجھیں کہ ترقی یافتہ ملکوں کی یہ ترقی ہماری ترقی اور زندگی کی ضمانت ہے اور اس کے ساتھ چلنے میں ہی ہماری بقا ہے۔ان ترقی یافتہ قوموں کی ترقی اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے اور اب جو ان کی اخلاقی حالت ہے اخلاق باختہ