خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 22 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 22

خطبات مسرور جلد 15 22 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 جنوری 2017 حرکتیں ہیں۔یہ چیزیں انہیں زوال کی طرف لے جارہی ہیں اور اس کے آثار ظاہر ہو چکے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کو یہ آواز میں دے رہے ہیں اور اپنی تباہی کو بلا رہے ہیں۔پس ایسے میں انسانی ہمدردی کے تحت ہم نے ہی ان کو صحیح راستہ دکھا کر بچانے کی کوشش کرنی ہے بجائے اس کے کہ ان کے رنگ میں رنگین ہو جائیں۔اگر ان لوگوں کی اصلاح نہ ہوئی جو ان کے تکبر اور دین سے دوری کی وجہ سے بظاہر بہت مشکل نظر آتی ہے تو پھر آئندہ دنیا کی ترقی میں وہ قو میں اپنا کر دار ادا کریں گی جو اخلاقی اور مذہبی قدروں کو قائم رکھنے والی ہوں گی۔پس جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا کہ ہمیں خاص طور پر نوجوانوں کو اللہ تعالیٰ کی تعلیم پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔دنیا سے متائثر ہو کر اس کے پیچھے چلنے کی بجائے دنیا کو اپنے پیچھے چلانے کی ضرورت ہے۔جیسا کہ پردہ اور لباس کے حوالے سے میں نے بات شروع کی تھی اس حوالے سے یہ بات بھی کہنا چاہتا ہوں اور افسوس سے کہنا چاہتا ہوں کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ کیا اسلام اور احمدیت کی ترقی کے لئے صرف پر وہ ہی ضروری چیز ہے۔کوئی کہتا ہے کہ یہ تعلیم اب فرسودہ ہو چکی ہے اور اگر ہم نے دنیا کا مقابلہ کرنا ہے تو ان باتوں کو چھوڑنا ہو گا (نعوذ باللہ )۔لیکن ایسے لوگوں پر واضح ہو کہ اگر دنیا داروں کے پیچھے چلتے رہے اور ان کی طرح زندگی گزارتے رہے تو پھر دنیا کے مقابلے کی بجائے خود دنیا میں ڈوب جائیں گے۔نمازیں بھی آہستہ آہستہ ظاہری حالت میں ہی رہ جائیں گی یا اور کوئی نیکیاں ہیں یا دین پر عمل ہیں تو وہ بھی ظاہری شکل میں رہ جائے گا اور پھر آہستہ آہستہ وہ بھی ختم ہو جائے گی۔پس اللہ تعالیٰ کے کسی بھی حکم کو معمولی نہیں سمجھنا چاہئے۔یہ بڑے خوف کا مقام ہے۔اسلام کی ترقی کے لئے ہر وہ چیز ضروری ہے جس کا خدا تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے۔پر وہ کی سختیاں صرف عورتوں کے لئے نہیں ہیں۔اسلام کی پابندیاں صرف عورتوں کے لئے نہیں ہیں بلکہ مر دوں اور عورتوں دونوں کو حکم ہے۔اللہ تعالیٰ نے پہلے مردوں کو حیا اور پردے کا طریق بتایا تھا۔چنانچہ فرمایا کہ قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ اَز کی لَهُمْ إِنَّ اللهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ (النور: 31) مومنوں کو کہہ دے کہ اپنی آنکھیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کیا کریں۔یہ بات ان کے لئے زیادہ پاکیزگی کا موجب ہے۔یقینا اللہ جو وہ کرتے ہیں اس سے ہمیشہ باخبر رہتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو پہلے کہا کہ غض بصر سے کام لو۔کیوں؟ اس لئے کہ ذلِكَ از کی لَهُمْ کیونکہ یہ بات پاکیزگی کے لئے ضروری ہے۔اگر پاکیزگی نہیں تو خدا نہیں ملتا۔پس عورتوں کے پردہ سے پہلے مردوں کو کہہ دیا کہ ہر ایسی چیز سے بچو جس سے تمہارے جذبات بھڑک سکتے ہوں۔عورتوں کو کھلی آنکھوں سے دیکھنا، ان میں مکس آپ (mix up) ہونا، گندی فلمیں دیکھنا، نامحرموں سے فیس بک (facebook) پر یا کسی اور ذریعہ سے پچیٹ (chat) وغیرہ کرنا، یہ چیزیں پاکیزہ نہیں رہتیں۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس