خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 20 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 20

خطبات مسرور جلد 15 20 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 جنوری 2017 تعلیمات پر پابندیاں لگتی چلی جائیں گی۔ہمیں دعاؤں پر بھی زور دینا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ان شیطانی چالوں کا مقابلہ کرنے کی ہمت اور توفیق بھی دے اور ہماری مدد بھی فرمائے۔اگر ہم سچائی پر قائم ہیں اور یقیناً ہیں تو پھر ایک دن ہماری کامیابی بھی یقینی ہے۔اسلام کی تعلیمات نے ہی دنیا پر غالب آنا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : "سچ میں ایک جرآت اور دلیری ہوتی ہے۔جھوٹا انسان بزدل ہوتا ہے۔وہ جس کی زندگی ناپاکی اور گند گناہوں سے ملوث ہے وہ ہمیشہ خوفزدہ رہتا ہے اور مقابلہ نہیں کر سکتا۔ایک صادق انسان کی طرح دلیری اور جرات سے اپنی صداقت کا اظہار نہیں کر سکتا اور اپنی پاکدامنی کا ثبوت نہیں دے سکتا۔دنیوی معاملات میں ہی غور کر کے دیکھ لو کہ کون ہے جس کو ذراسی بھی خدا نے خوش حیثیتی عطا کی ہو اور اس کے حاسد نہ ہوں۔ہر خوش حیثیت کے حاسد ضرور ہو جاتے ہیں اور ساتھ ہی لگے رہتے ہیں۔یہی حال دینی امور کا ہے۔شیطان بھی اصلاح کا دشمن ہے۔پس انسان کو چاہئے کہ اپنا حساب صاف رکھے اور خدا سے معاملہ درست رکھے۔خدا کو راضی کرے پھر کسی سے نہ خوف کھائے اور نہ کسی کی پرواہ کرے۔ایسے معاملات سے پر ہیز کرے جن سے خود ہی مورد عذاب ہو جاوے۔مگر یہ سب کچھ بھی تائید غیبی اور توفیق الہی کے سوا نہیں ہو سکتا۔صرف انسانی کوشش کچھ بنا نہیں سکتی جب تک خدا کا فضل بھی شامل حال نہ ہو۔خُلِقَ الْإِنْسَانُ ضَعِيفًا (النساء:29)۔انسان ناتواں ہے۔غلطیوں سے پڑ ہے۔مشکلات چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہیں۔پس دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نیکی کی توفیق عطا کرے اور تائیدات غیبی اور فضل کے فیضان کا وارث بنادے۔" (ملفوظات جلد 10 صفحہ 252) پس دعاؤں کے ساتھ ہم نے دنیا کو قائل کرنا ہے اور اس کے لئے خدا تعالیٰ سے پختہ تعلق پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ دوسرے مذاہب ہمیشہ کے لئے نہیں ہیں۔اپنے اپنے وقت پر آئے اور اپنے زمانے کی تربیتی ضروریات پوری کیں اور ختم ہو گئے۔تبھی تو ان کی مذہبی کتابوں میں بھی بے شمار کانٹ چھانٹ ہو چکی ہے اور تبدیلیاں ہو چکی ہیں۔لیکن ان میں اسلام ہے جو اب تک محفوظ ہے اور اسلام ہمیشہ رہنے کے لئے ہے۔قرآن کریم کی تعلیمات قیامت تک کے لئے ہیں۔اس لئے ہمیں بغیر کسی احساس کمتری کے اپنی تعلیمات پر عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور اس پر قائم رہنا چاہئے اور دوسروں کو بھی بتانا چاہئے کہ تم جو باتیں کرتے ہو یہ اللہ تعالیٰ کی منشاء کے خلاف ہیں اور تباہی کی طرف لے جانے والی ہیں۔اسلام کوئی ایسا مذ ہب نہیں جو انسان کو غلط قسم کی پابندیوں میں جکڑ دیتا ہے بلکہ حسب ضرورت اس میں اپنی تعلیمات میں نرمی کے پہلو بھی ہیں۔جیسا کہ میں نے بتایا کہ بعض مریض ایسے ہیں کہ مرد ڈاکٹر کو دکھانا ہوتا ہے تو ڈاکٹر وغیرہ کے لئے ، مریض کے لئے ، پر دہ کی کوئی سختی نہیں ہے۔انسانی جان کو بچانا اور انسانی جان کو تکلیف سے