خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 459
خطبات مسرور جلد 15 459 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 ستمبر 2017 کی وفات ہو گئی۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔یہ اس سال جلسہ یو کے (UK) پر بھی آئے تھے اور پہلے روز شام کو جب پین افریقن ایسوسی ایشن کا پروگرام جاری تھا اچانک ان پر فالج کا حملہ ہوا اور فالج کے حملہ کی وجہ سے طبیعت ناساز ہو گئی۔فوری طور پر ان کو یہاں ہسپتال لے جایا گیا جہاں کچھ دن یہ زیر علاج بھی رہے۔پھر طبیعت بظاہر بہتر بھی ہو گئی تھی اور مجھے ملنے آئے ہیں۔اس کے بعد دو دفعہ ملا ہوں۔بظاہر صحت میں لگ رہے تھے۔اس کے بعد واپس امریکہ چلے گئے۔آپ 1934ء میں فلوریڈا میں پید اہوئے۔چھ سال کی عمر میں ان کے والدین کی وفات ہو گئی۔آٹھ سال کی عمر میں یہ بورڈنگ میں چلے گئے جہاں بائبل کی تعلیم حاصل کی۔پھر دیگر ملازمتیں اختیار کیں۔کچھ عرصہ آرمی میں بھی شامل رہے۔1957ء میں منسٹر آف گا سپل (Minister of Gospel) بن گئے تاہم ان کو عیسائیت کے بعض عقائد سے اختلاف تھا۔1960ء میں ان کی ایک سنی مسلمان سے ملاقات ہوئی جس نے انہیں جماعت کا شائع شدہ قرآن کریم دیا۔آپ نے اس شخص سے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں جن کا یہ قرآن کریم ہے۔اس نے بتایا کہ یہ مسلمان تو نہیں ہیں لیکن ان کی کتابیں اچھی ہیں۔تو آپ نے اس شخص سے ایک احمدی کا پتا کیا اور پتا معلوم کر کے ان کی دکان پر پہنچے۔وہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر دیکھی اور پوچھنے پر بتایا گیا کہ یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور امام مہدی ہیں۔بہر حال اس کے بعد آپ نے احمدیت قبول کر لی اور پھر فلاڈلفیا (Philadelphia) میں احمدیوں کے ساتھ مل کے تبلیغ کے کام کرتے رہے۔بلال عبد السلام صاحب کو قرآن کریم سیکھنے کا بھی بڑا شوق تھا۔وہ چار گھنٹے کی مسافت طے کر کے ہر دوسرے اتوار کو پٹسبرگ آیا کرتے تھے تاکہ کچھ سیکھ سکیں۔اور اسی طرح آپ صدر جماعت فلاڈلفیا اور نیشنل عاملہ میں وقف جدید اور تربیت نو مبائعین کے سیکر ٹری بھی رہے۔آپ زندگی وقف کر کے کچھ عرصہ بالٹی مور میں جماعت کے آنریری مبلغ کے طور پر بھی کام کرتے رہے اور اس کے بعد بھی پھر انہوں نے تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھا۔خلافت سے بے انتہا محبت کرنے والے تھے۔نظام جماعت کے پابند اور اعلیٰ معیار کی اطاعت کرنے والے تھے۔ہمیشہ خلفاء کے ذکر پر آبدیدہ ہو جایا کرتے تھے۔1975ء میں ان کو جلسہ سالانہ قادیان میں بھی شمولیت کی توفیق ملی۔فلاڈلفیا مسجد تعمیر ہو رہی ہے۔اس کے لئے آپ کی بڑی خواہش بھی تھی اور کوشش بھی کرتے رہے اور اس تعمیر کے دوران آپ روزانہ پورا دن وہاں کیبن میں گزارتے اور دعائیں کرتے تھے اور ہمیشہ اس کوشش میں ہوتے تھے کہ مسجد جلدی سے جلدی تعمیر ہو جائے۔امید ہے انشاء اللہ تعالیٰ جلدی بن جائے گی۔ان کی اہلیہ مسز اسنسٹن (Easnestine) پاسٹر (Poster) ہیں۔یہ احمدی نہیں تھیں لیکن ہمیشہ اُن سے ان کا نیک سلوک رہا۔پسماندگان میں دو بیٹے ہیں اور دو بیٹیاں ہیں۔ایک بیٹے عمر عبد السلام صاحب نے 1993ء میں بیعت کی تھی اور جماعت میں